اتر پردیش پولیس نے شاہجہاں پور میں مبینہ زبردستی تبدیلیِ مذہب کے الزام میں ایک عیسائی مبلغ کو گرفتار کر لیا
بھارت میں مذہبی شناخت پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ایک اور واقعے میں، ایک ہندو قوم پرست کارکن کی شکایت پر ایک عیسائی مبلغ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس نے آئینی مذہبی آزادی اور تبدیلیِ مذہب کے سخت قوانین کے درمیان جاری تصادم کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
This report is primarily based on police statements and a complaint from a local RSS worker, reflecting the official state narrative regarding the enforcement of Uttar Pradesh's anti-conversion laws.
"پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر لوگوں کو یہ لالچ دے کر 'پھسلا' رہا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کو سرکاری نوکری دی جائے گی اور ان کی شادی 'ایک خوبصورت لڑکی' سے کرائی جائے گی۔"
تفصیلی جائزہ
یہ گرفتاری اتر پردیش میں مذہبی معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر ریاستی عناصر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے۔ RSS کارکن کی شکایت پر کارروائی کر کے، ریاستی مشینری نے ہندو قوم پرست تنظیموں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا ثبوت دیا ہے، جس سے مقامی مذہبی تنازعات مجرمانہ مقدمات میں بدل رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے 'فنڈنگ' اور 'ماڈیولز' کی تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکام انفرادی تبلیغ کو ریاست کے خلاف ایک بڑی منظم سازش کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ انوکھے سنگھ نے ملازمت اور شادی کے وعدوں سے لوگوں کو 'ورغلایا'—جو کہ ریاست کی قانونی تعریف کے مطابق 'لالچ' کے زمرے میں آتا ہے—تاہم انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو اکثر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ اصل تنازع ریاست کے اس دعوے، کہ وہ کمزور لوگوں کو دباؤ سے بچا رہی ہے، اور اس تنقید کے درمیان ہے کہ ایسی کارروائیاں سیاسی ایجنڈے اور اکثریت پسندانہ کنٹرول کا حصہ ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
اتر پردیش کا غیر قانونی تبدیلیِ مذہب کا قانون 2020 میں نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد حکمران BJP (بھارتیہ جنتا پارٹی) کے بقول شادی، دھوکے یا زبردستی کے ذریعے ہونے والی 'غیر قانونی' تبدیلیوں کو روکنا ہے۔ یہ قانون دائیں بازو کے گروہوں کی برسوں کی مہم کے بعد سامنے آیا، جن کا دعویٰ ہے کہ 'بڑے پیمانے پر تبدیلیاں' بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت کے لیے خطرہ ہیں، جس کے بعد دیگر کئی BJP ریاستوں نے بھی اسی طرح کے پابندی والے قوانین اپنا لیے ہیں۔
تاریخی طور پر، تبلیغِ مذہب کے حوالے سے بھارت کا رویہ پیچیدہ رہا ہے؛ اگرچہ آئین مذہب کی 'تبلیغ' کا حق دیتا ہے، لیکن سپریم کورٹ پہلے ہی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ اس میں دھوکہ دہی کے ذریعے کسی دوسرے شخص کا مذہب تبدیل کروانے کا حق شامل نہیں ہے۔ گزشتہ دہائی میں، عدالتی نگرانی سے ہٹ کر پولیس کے ذریعے سخت کارروائیوں کی طرف منتقلی شمالی بھارت میں سیکولرازم کی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
عوامی ردعمل
اس واقعے کے بارے میں عوامی جذبات شدید تقسیم کا شکار ہیں، جو بھارت کے گہرے فرقہ وارانہ اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرفتاری کے حامی، جن میں ہندو قوم پرست گروہ شامل ہیں، پولیس کی کارروائی کو مشنریوں کے 'شکاری' حربوں کے خلاف ایک ضروری دفاع قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، انسانی حقوق کے مبصرین اور اقلیتی مذہبی تنظیمیں گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، وہ ایسی گرفتاریوں کو خوف و ہراس پھیلانے کا حربہ سمجھتے ہیں۔
اہم حقائق
- •اتر پردیش پولیس نے مراد آباد کے رہائشی انوکھے سنگھ کو جوگراج پور گاؤں سے ریاست کے غیر قانونی تبدیلیِ مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا۔
- •یہ قانونی کارروائی RSS کے ایک مقامی رکن گورو گپتا کی جانب سے درج کرائی گئی تحریری شکایت کے بعد شروع کی گئی۔
- •انوکھے سنگھ پر مجرمانہ دھمکیوں کے لیے دفعہ 351(2) اور امن میں خلل ڈالنے کی نیت سے توہین کرنے کے لیے دفعہ 352 کے ساتھ ساتھ تبدیلیِ مذہب کے مخصوص قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔