ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Health24 جون، 2026Fact Confidence: 100%

کولمبیا میں صحت کی سہولیات کا فرق: حکومتی غفلت کے بعد دائیوں نے خلا پر کر دیا

Choco کے گھنے جنگلوں میں، جہاں حکومت کا نام و نشان تک نہیں ملتا، ایک پوری نسل کی بقا ان روایتی دائیوں کے ہاتھوں میں ہے جو صحت کے نظام میں موجود ایک جان لیوا خلا کو پر کر رہی ہیں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedOpinionated

While the reporting is rooted in verifiable geographic and public health data, the brief adopts an opinionated tone that is explicitly critical of the Colombian state’s healthcare infrastructure in rural regions.

کولمبیا میں صحت کی سہولیات کا فرق: حکومتی غفلت کے بعد دائیوں نے خلا پر کر دیا
"جب بچہ پیدا ہونے لگتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے سورج نکل رہا ہو۔ ہر طرف اندھیرا ہوتا ہے اور پھر اچانک سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔ جب بچہ دنیا میں آتا ہے، تو یہ ایک ساتھ خوشی اور سکون ملنے کا لمحہ ہوتا ہے۔"
Nohemí Manco (Describing the experience of delivering babies in remote areas without formal medical assistance.)

تفصیلی جائزہ

روایتی دائیوں پر انحصار محض ایک ثقافتی انتخاب نہیں بلکہ کولمبیا کی ریاست کی جانب سے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے میں ناکامی کا ثبوت ہے۔ اگرچہ Bogotá کی مرکزی حکومت جدید طبی معیارات کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن سرحدی علاقوں میں حقیقت زندگی اور موت کی ایک کشمکش ہے جہاں یہ 'partera' ہی اموات کی بڑھتی ہوئی شرح کے سامنے واحد رکاوٹ ہے۔ اس سے صحت کا ایک دوہرا نظام پیدا ہوتا ہے جہاں زندگی کا دارومدار جغرافیے پر ہے، اور ریاست اپنی آئینی ذمہ داری غیر ادا شدہ مقامی محنت پر ڈال دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ دائیاں ان کمیونٹیز کے لیے 'سب سے اہم اور مستقل سہارا' ہیں، جبکہ محقق Liany Katerine Ariza Ruiz کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں اموات کی بڑی وجہ یہی تنہائی ہے۔ اب NGOs ان خواتین کو ایک لازمی طبی اثاثہ تسلیم کر رہی ہیں، مگر اصل چیلنج ان کے علم کی اصل شناخت اور خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں سرکاری نظام کا حصہ بنانا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

کولمبیا میں دائی گری کی روایت کی جڑیں افریقی-کولمبیائی اور مقامی باشندوں کی منظم پسماندگی کے خلاف جدوجہد میں پیوست ہیں۔ صدیوں تک ان کمیونٹیز کو قومی ڈھارے سے باہر رکھا گیا، جس کی وجہ سے انہوں نے جڑی بوٹیوں اور پیدائش کے عمل کے لیے اپنے خود مختار نظام تیار کیے۔

حالیہ دہائیوں میں کولمبیا کے اندرونی تنازعات نے ان علاقوں کو مزید تنہا کر دیا، جس سے سرکاری طبی رسائی ناممکن ہوگئی۔ 2017 میں جا کر UNESCO نے ان دائیوں کے روایتی علم کو 'غیر محسوس ثقافتی ورثہ' تسلیم کیا، جو کہ اس نظام کی ایک تاخیر سے ہونے والی تصدیق تھی جو صدیوں سے حکومت کی عدم موجودگی میں زندگی بچا رہا تھا۔

عوامی ردعمل

متاثرہ دیہی علاقوں کے عوام میں ان دائیوں کے لیے گہری عقیدت اور اعتماد پایا جاتا ہے، جو سرکاری طبی اداروں کے روایتی شکوک و شبہات کے بالکل برعکس ہے۔ اب ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ علاقائی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے ان روایتی طریقوں کو قومی صحت کے فریم ورک میں شامل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اہم حقائق

  • روایتی دائیاں، جنہیں 'parteras tradicionales' کہا جاتا ہے، Choco اور Unguía جیسے دور دراز علاقوں میں افریقی نسل اور مقامی آبادی کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے والی واحد ذریعہ ہیں۔
  • ان علاقوں کی جغرافیائی تنہائی کا یہ عالم ہے کہ قریبی اسپتالوں تک پہنچنے کے لیے اکثر صرف کشتی یا کچے راستوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جس میں گھنٹوں یا کئی دن لگ سکتے ہیں۔
  • صحت عامہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کولمبیا کے شہری مراکز کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں ماں اور بچے کی اموات کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Quibdo📍 Unguía

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Colombia’s Health Divide: Midwives Fill the Void Left by State Neglect - Haroof News | حروف