کانگریس میں خانہ جنگی: ششی تھرور کی مودی کی تعریف نے پارٹی میں شدید اشتعال پیدا کر دیا
انڈین نیشنل کانگریس کے اندر عارضی صلح ایک بار پھر ٹوٹ گئی ہے، کیونکہ ششی تھرور کی وزیر اعظم مودی کی طرف سفارتی جھکاؤ پارٹی کی جارحانہ اپوزیشن حکمت عملی سے ٹکرا گیا ہے۔
This brief is tagged as sensationalized due to its focus on internal political 'fury,' while the 'disputed claims' tag reflects the core disagreement between Tharoor's interpretation of diplomatic events and the official government record as cited by his party spokespeople.
"میرے سینئر ساتھی ڈاکٹر ششی تھرور کی وزیر اعظم مودی کے لیے عقیدت دنیاوی حدود سے تجاوز کر گئی ہے۔ اب وہ شاید وہ باتیں بھی سن سکتے ہیں جو مودی نے کبھی کہی ہی نہیں ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ ششی تھرور کے 'سفارتی' انداز اور راہول گاندھی کی قیادت میں پارٹی کی 'ٹکراؤ' والی پالیسی کے درمیان بنیادی فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ تھرور کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعریف شائع شدہ رپورٹس پر مبنی تھی، جبکہ راہول گاندھی کا الزام ہے کہ وزیر اعظم بھارتی شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموش رہے۔ BJP نے اس اندرونی لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کو حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔
یہ معاملہ صرف بیان بازی تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کے حساس موڑ پر پارٹی کے موقف کا سوال ہے۔ امریکی بحریہ سے جڑے ایک حساس معاملے پر پارٹی لائن سے ہٹ کر بیان دینے سے تھرور کی قیادت کے ساتھ وفاداری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پارٹی کی طرف سے فوری اور سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان اب ایسی 'دانشورانہ آزادی' برداشت کرنے کو تیار نہیں جو حکومت کو سیاسی فائدہ پہنچائے۔
پس منظر اور تاریخ
ششی تھرور اور کانگریس کی قیادت کے درمیان کشیدگی پرانی ہے جو 2022 کے صدارتی انتخابات کے دوران عروج پر تھی۔ تھرور نے پارٹی کے منظور نظر امیدوار ملکارجن کھڑگے کے خلاف الیکشن لڑا تھا، جس کی وجہ سے انہیں پارٹی کے اندر ایک 'باغی' کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
یہ حالیہ ٹکراؤ 'G-23' دور کی یاد دلاتا ہے جب سینئر رہنماؤں نے گاندھی خاندان کے اندازِ قیادت کو چیلنج کیا تھا۔ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی بحری جہاز کے حساس معاملے نے اس اندرونی رسہ کشی کو قومی سلامتی کے رنگ میں رنگ دیا ہے، جس سے پارٹی کے لیے اپنے سینئر رکن کی حمایت یا وزیر اعظم کے خلاف متحدہ محاذ برقرار رکھنے کے درمیان فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور میڈیا کا ردعمل شدید تقسیم کا شکار ہے اور اسے ایک 'سیاسی دنگل' قرار دیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے اندر شدید چڑچڑاہٹ اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش نظر آتی ہے، جبکہ BJP اس اندرونی خلفشار کو اپوزیشن کی کمزوری ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اہم حقائق
- •کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے G7 سمٹ کے دوران بھارتی ملاحوں کی حفاظت کے حوالے سے وزیر اعظم مودی کی سفارتی کوششوں کی سر عام تعریف کی۔
- •کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے طنزیہ انداز میں سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تھرور کے 'سخت ردعمل' کے دعوے وزارت خارجہ (MEA) کی آفیشل رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔
- •یہ اندرونی اختلاف اس بات پر شروع ہوا کہ آیا وزیر اعظم مودی نے صدر Donald Trump کے ساتھ امریکی بحریہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے تین بھارتی ملاحوں کا معاملہ اٹھایا تھا یا نہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔