ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Middle East14 جون، 2026Fact Confidence: 95%

یروشلم کا مٹتا ہوا افق: گھروں کی مسماری میں اضافے کے پیچھے چھپی پالیسی اور طاقت

یروشلم کی قدیم دیواروں کے سائے میں بیوروکریٹک یلغار تیز ہو رہی ہے، جہاں گھروں کی مسماری کی شرح انتہائی حد تک پہنچنے کے ساتھ ہی خاندانی وراثتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلا جا رہا ہے۔

AI Editor's Analysis
Left-LeaningFact-Based

The report utilizes statistics from a major international news organization but frames the municipal enforcement actions within a broader narrative of systemic displacement, reflecting a viewpoint critical of state policy.

یروشلم کا مٹتا ہوا افق: گھروں کی مسماری میں اضافے کے پیچھے چھپی پالیسی اور طاقت
"انہوں نے صرف ایک گھر نہیں گرایا، انہوں نے میرے بچوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔"
Fakhri Abu Diab (Reacting to the demolition of a multi-generational family home in the Silwan neighborhood of East Jerusalem.)

تفصیلی جائزہ

مسماری میں یہ اضافہ East Jerusalem کی آبادیاتی اور جغرافیائی صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ 'غیر قانونی تعمیرات' کا بہانہ بنا کر اسرائیلی میونسپلٹی فلسطینی رہائشیوں کے خلاف تھکاوٹ کی پالیسی (policy of attrition) اپنا رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی یہودی بستیوں کے انفراسٹرکچر کو پھیلا رہی ہے۔ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے یہ سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ سخت گیر حکومت کے تحت سیکورٹی اور انتظامی قوانین کو سخت کر دیا گیا ہے، جس سے شہری صفائی کے عمل کو تیز کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

جہاں BBC News مسماری میں 70 فیصد کے ڈرامائی اضافے کو فلسطینیوں کی موجودگی ختم کرنے کے ایک منظم منصوبے کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں صرف بغیر اجازت تعمیر شدہ عمارتوں کے خلاف قانونی عمل ہے۔ تاہم، شہری منصوبہ بندی کی پالیسی کا تجزیہ بتاتا ہے کہ پرمٹ کا نظام فلسطینیوں کے لیے ناممکن بنا دیا گیا ہے، جس سے ایک ایسا قانونی تضاد پیدا ہو گیا ہے جہاں کسی بھی قسم کی تعمیر کو خلاف ورزی قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس وقت کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی عدم استحکام کو 'گرین زونز' اور آثار قدیمہ کے پارکس کے پرانے میونسپل اہداف کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل کی جانب سے الحاق کیے جانے کے بعد سے East Jerusalem اسرائیلی فلسطینی تنازع کا مرکز رہا ہے، جسے عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔ دہائیوں سے یہ علاقہ ایسے 'ماسٹر پلانز' کے زیر اثر ہے جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ یہودی آبادی کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت اکثر فلسطینی علاقوں کو نیشنل پارکس یا گرین ایریاز قرار دے دیا جاتا ہے، جس سے عرب محلوں کی توسیع رک جاتی ہے جبکہ قریبی یہودی بستیوں کو پھیلنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

Silwan کا محلہ خاص طور پر اس جدوجہد کی ایک چھوٹی مثال ہے کیونکہ یہ 'City of David' کے آثار قدیمہ کے مقام پر واقع ہے۔ گزشتہ 20 سالوں کے دوران تاریخی اور مذہبی سیاحت کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوششوں نے جائیداد کے حقوق پر ایک طویل قانونی اور جسمانی جنگ کو جنم دیا ہے۔ آثار قدیمہ، قوم پرستی اور شہری قوانین کا یہ امتزاج اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر مسماری کو صرف زوننگ کا معاملہ نہیں بلکہ دہائیوں پرانے علاقائی تنازع کے تسلسل کے طور پر دیکھا جائے۔

عوامی ردعمل

East Jerusalem کے فلسطینیوں میں گہری مایوسی اور بڑھتا ہوا غصہ پایا جاتا ہے، اور رہائشی اس پالیسی کو شہر میں اپنی موجودگی کا 'گلا گھونٹنے' کی ایک دانستہ کوشش قرار دیتے ہیں۔ جیسے جیسے گھروں کے نقصان کی رفتار بڑھ رہی ہے، عالمی برادری کی جانب سے نظر اندازی کا احساس بھی نمایاں ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ اسرائیلی سیاسی ڈھانچے میں ان کارروائیوں کو قانون کی حکمرانی اور تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے، جو شہری خود مختاری کے بارے میں ایک سخت گیر موقف کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم حقائق

  • اسرائیلی حکام نے منگل کو Silwan کے علاقے میں Shehada خاندان کا گھر مسمار کر دیا، جس سے بچوں سمیت 13 افراد بے گھر ہو گئے۔
  • 2024 کے اعداد و شمار East Jerusalem میں 2023 کی اسی مدت کے مقابلے میں گھروں کی مسماری میں 70 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
  • رواں سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز شہر میں فلسطینیوں کی 200 سے زائد عمارتیں گرا چکی ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Jerusalem

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Jerusalem’s Vanishing Horizon: The Policy and Power Behind Rising Home Demolitions - Haroof News | حروف