انگلینڈ میں بچوں کی ذہنی صحت کا بحران: ریکارڈ ڈیمانڈ کی وجہ سے سروسز شدید دباؤ کا شکار
دس لاکھ ریفرلز کے ان ہوش ربا اعداد و شمار کے پیچھے ایک ایسے بچے کی سسکیاں چھپی ہیں جو اپنے کمرے سے باہر نکلنے سے ڈرتا ہے اور وہ والدین جو فون تھامے برسوں سے اس کال کا انتظار کر رہے ہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔
The brief accurately synthesizes official data from the Children's Commissioner for England and BBC reporting; the tags reflect the report's focus on identifying systemic failures and disparities in public healthcare delivery.

"اگرچہ گزشتہ سال مدد حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد میں بہتری آئی ہے، لیکن ذہنی صحت کی سروسز کو درپیش 'بہت بڑے چیلنج' (colossal challenge) کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کیونکہ مدد کی طلب سسٹم کی گنجائش اور فنڈنگ سے کہیں زیادہ ہے۔"
تفصیلی جائزہ
ریفرلز میں یہ اضافہ سسٹم کی اس رکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے جہاں نیورو ڈویلپمنٹل اسسمنٹس اور اینگزائٹی سپورٹ کی طلب NHS کی گنجائش سے بہت بڑھ گئی ہے۔ چلڈرن کمشنر Dame Rachel de Souza نے اسے ایک 'بہت بڑا چیلنج' قرار دیا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں، جہاں معمولی اینگزائٹی بعد میں شدید بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
رسائی میں فرق ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ BBC کی رپورٹ کے مطابق غریب علاقوں کے بچے امیر علاقوں کے مقابلے میں دوگنا ریفر کیے جاتے ہیں۔ YoungMinds کے مطابق، سیاہ فام اور ایشیائی بچے اس وقت تک سسٹم کی نظر میں نہیں آتے جب تک وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو جائیں، اور 25 فیصد سیاہ فام بچوں کو صرف ایمرجنسی میں مدد ملتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
حالیہ بحران گزشتہ دہائی کے سماجی دباؤ اور نیورو ڈائیورسٹی کے بارے میں بدلتے ہوئے شعور کا نتیجہ ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برطانیہ میں کفایت شعاری کے اقدامات (austerity measures) نے یوتھ سینٹرز کا بجٹ کم کر دیا، جس سے وہ حفاظتی نیٹ ورک ختم ہو گیا جو بچوں کو کلینیکل مدد کی ضرورت سے پہلے سنبھال لیتا تھا۔
مزید برآں، COVID-19 کی وبا نے ایک پوری نسل کو تنہا کر کے سماجی اینگزائٹی میں اضافہ کیا۔ اگرچہ اب آٹزم اور ADHD کی تشخیص کے آلات بہتر ہوئے ہیں، لیکن برطانیہ کا طبی ڈھانچہ (medical infrastructure) ابھی تک پرانا ہے، جو 21ویں صدی کی آگاہی کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی جذبات میں گہری تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔ سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ موجودہ ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور یہ غریب اور اقلیتی خاندانوں کے سب سے کمزور بچوں کی مدد کرنے میں نااہل ثابت ہو رہا ہے۔ اب فوری طور پر محض بحران کو سنبھالنے کے بجائے کمیونٹی کی سطح پر مربوط سپورٹ کی ضرورت ہے۔
اہم حقائق
- •2024-2025 میں انگلینڈ میں دس لاکھ سے زائد بچوں کو ذہنی صحت کی سروسز کے لیے ریفر کیا گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 10 فیصد اور 2018-2019 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔
- •ان ریفرلز کی سب سے بڑی وجہ اینگزائٹی (Anxiety) ہے جو کہ 16 فیصد ہے، جبکہ آٹزم (Autism) کے مشتبہ کیسز میں ایک سال کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا جو 96,000 سے تجاوز کر گئے۔
- •60,000 سے زائد بچے دو سال سے علاج کے انتظار میں ہیں، اور سیاہ فام بچوں کے معاملے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ صرف اس وقت سسٹم تک پہنچتے ہیں جب ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔