انگلینڈ کے نوجوانوں کی ذہنی صحت کا بحران: لاکھوں بچے مدد کے منتظر
انگلینڈ کے ہزاروں گھروں میں بچوں کے کمروں کی خاموشی اب ایک ایسی جنگ بن چکی ہے جہاں بے چینی اور پریشانی کا راج ہے، جبکہ جس مدد کا وعدہ کیا گیا تھا وہ سرکاری محکموں کی ویٹنگ لسٹوں میں دو سال دور کی گونج بن کر رہ گئی ہے۔
The brief accurately synthesizes data from an official government-appointed commissioner's report, though it employs evocative language to describe the scale of the healthcare crisis. The tags identify the underlying factual foundation while acknowledging the sensationalized tone of the narrative's delivery.

"ذہنی صحت کی خدمات کو درپیش اس بڑے چیلنج کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کیونکہ مدد کی مانگ سسٹم کی صلاحیت اور فنڈنگ سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ سسٹم جواب دے چکا ہے، جہاں ضرورت کی شدت نے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو سیفٹی نیٹ کے بجائے ایک رکاوٹ (bottleneck) بنا دیا ہے۔ اگرچہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ بچوں کو دیکھا جا رہا ہے، لیکن چلڈرن کمشنر کے مطابق فنڈنگ اور انفراسٹرکچر اس نسل میں بڑھتی ہوئی پریشانیوں اور نیورو ڈویلپمنٹل مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں مدد حاصل کرنے کے طریقے میں پریشان کن فرق بھی سامنے آیا ہے۔ بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، جہاں سفید فام بچوں کو اکثر ابتدائی مراحل میں ریفر کیا جاتا ہے، وہاں سیاہ فام اور ایشیائی بچوں کے سسٹم میں داخل ہونے کا امکان تب ہی ہوتا ہے جب وہ شدید ذہنی کرب یا بحران کا شکار ہوں۔
پس منظر اور تاریخ
انگلینڈ کے نوجوانوں کی ذہنی صحت کا حالیہ بحران پچھلی دہائی سے بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کا نتیجہ ہے جس میں COVID-19 کی وبا نے مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ 2018-2019 سے اب تک ریفرلز کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے، جو نفسیاتی مسائل میں حقیقی اضافے اور سماجی شعور میں بہتری دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔
مزید برآں، آٹزم (Autism) اور ADHD جیسے مسائل کے ریفرلز میں ڈرامائی اضافہ تعلیمی اور تشخیصی معیارات میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے تشخیص کے طریقے بہتر ہوئے اور والدین زیادہ متحرک ہوئے، میڈیکل انفراسٹرکچر ٹیسٹنگ کی اس بڑی لہر کو سنبھالنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے کئی سالوں کی تاخیر ہو رہی ہے۔
عوامی ردعمل
اداریہ اور عوامی جذبات گہری تشویش اور نظام میں ناانصافی کے احساس پر مبنی ہیں۔ YoungMinds جیسے گروپوں اور حکومتی عہدیداروں نے ان اعداد و شمار کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ اس بات پر شدید مایوسی پائی جاتی ہے کہ حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود، لاکھوں بچوں کی تلخ حقیقت نظر اندازی اور انتظامی تاخیر کے سوا کچھ نہیں۔
اہم حقائق
- •2024-2025 کے دوران انگلینڈ میں بچوں کی ذہنی صحت کی خدمات کے لیے ریفرلز کی تعداد 1,014,500 تک پہنچ گئی، جو صرف ایک سال میں 10 فیصد اضافہ ہے۔
- •60,000 سے زیادہ بچے علاج کے لیے دو سال سے زیادہ وقت سے انتظار کر رہے ہیں، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 44,000 تھی۔
- •مشتبہ آٹزم (Autism) کے ریفرلز میں ایک سال میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا، لیکن اس رپورٹنگ پیریڈ کے دوران ایسے پانچ میں سے ایک بچے کو بھی علاج نہیں مل سکا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔