یوکے ہیلتھ کیئر میں جنگ بندی: ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے ڈیل قبول کر لی، تاریخی ہڑتالوں کا خاتمہ
تین سالوں کی طویل لڑائی کے بعد جس نے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا تھا، ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے معمولی اکثریت سے ڈیل کے حق میں ووٹ دے کر اپنی ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ برطانوی طب کے مستقبل کے لیے ایک نازک جنگ بندی کا اشارہ ہے۔
While the brief employs dramatic rhetorical devices such as 'sheathing scalpels' to frame the labor resolution, it accurately reconciles the differing statistical perspectives provided by the BBC and The Guardian regarding the long-term value of the pay deal.

""ان ہڑتالوں کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم نے حکومت کے ساتھ تکرار میں بہت زیادہ وقت ضائع کر دیا جبکہ ایک ایسا حل ہمارے سامنے تھا جو سب کے مفاد میں تھا: ڈاکٹروں کے لیے زیادہ نوکریاں، بہتر تنخواہیں، اور مریضوں کے لیے مستقبل میں ایک بہتر اسٹاف والی NHS محفوظ بنانا۔""
تفصیلی جائزہ
53 فیصد کی معمولی کامیابی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹروں میں گہری تقسیم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ BMA کی قیادت نے 'تنخواہوں کی بحالی' کی راہ ہموار کر لی ہے، لیکن ایک بڑا طبقہ اب بھی ڈیل سے مطمئن نہیں ہے۔ حکومت کے لیے یہ NHS کو مستحکم کرنے کی ایک اہم فتح ہے، لیکن ہڑتالوں کے مالی اثرات—جو فی دن 5 کروڑ پاؤنڈ بتائے جاتے ہیں—پہلے ہی ہیلتھ کیئر بجٹ میں ایک بڑا شگاف ڈال چکے ہیں۔
دی گارڈین (The Guardian) کے مطابق تنخواہوں میں حالیہ اضافے کے بعد ڈاکٹروں کی تنخواہیں چار سال پہلے کے مقابلے میں اوسطاً 35.2 فیصد زیادہ ہو جائیں گی، جبکہ بی بی سی (BBC) کی رپورٹس فوری طور پر ملنے والے 3.5 فیصد اضافے پر توجہ دے رہی ہیں۔ یہ فرق حکومت کے 'بڑی سرمایہ کاری' کے دعوے اور یونین کے اس موقف کے درمیان تناؤ کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ڈیل تنخواہوں میں دہائیوں سے ہونے والی کمی کو پورا کرنے کا صرف پہلا قدم ہے۔
پس منظر اور تاریخ
اس تنازعے کی جڑیں 2008-09 تک جاتی ہیں، جس کے بعد ریزیڈنٹ ڈاکٹروں—جو برطانیہ کی میڈیکل ورک فورس کا تقریباً نصف ہیں—کی قوت خرید میں تنخواہوں کے جمود کی وجہ سے بڑی کمی آئی۔ ہڑتالوں کی پہلی جدید لہر مارچ 2023 میں شروع ہوئی، جب مہنگائی بڑھ گئی اور عملے کی کمی شدت اختیار کر گئی۔ اس دوران ہڑتال کے 16 راؤنڈز ہوئے، جو اسے NHS کی تاریخ کے طویل ترین تنازعات میں سے ایک بناتے ہیں۔
ستمبر 2024 میں ایک علامتی موڑ اس وقت آیا جب حکومت نے 'جونیئر ڈاکٹروں' کا نام بدل کر 'ریزیڈنٹ ڈاکٹرز' رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ ان کی مہارت کی بہتر عکاسی ہو سکے۔ اس پیشہ ورانہ اعتراف اور جولائی 2024 میں دی گئی 22 فیصد تنخواہ کی پیشکش نے 2026 کے وسط میں ہونے والے اس معاہدے کی بنیاد رکھی، اگرچہ شمالی آئرلینڈ میں اب بھی ہڑتالیں جاری ہیں۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر تھکن اور سکون کا ملا جلا احساس پایا جاتا ہے، جس میں میڈیکل کمیونٹی کی جانب سے شکوک و شبہات بھی شامل ہیں۔ جہاں حکومتی حکام اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اس باب کو بند کرنے کے لیے بے تاب ہیں، وہیں BMA کی قیادت اسے مکمل فتح کے بجائے تنخواہوں کی مکمل بحالی کی طرف ایک ضروری منتقلی قرار دے رہی ہے۔ ریفرنڈم کے معمولی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں اور حکومت (Whitehall) کے درمیان اعتماد اب بھی نازک ہے۔
اہم حقائق
- •برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (BMA) کے ممبران نے 57 فیصد ٹرن آؤٹ کے ساتھ 53 فیصد اکثریت سے حکومتی پیشکش کے حق میں ووٹ دیا، جس سے تین سالہ وقفے وقفے سے جاری ہڑتالیں ختم ہو گئیں۔
- •اس معاہدے میں اوسطاً 6.6 فیصد تنخواہ میں اضافہ شامل ہے جو اپریل 2027 تک مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا، جبکہ اپریل 2026 سے واجب الادا بقایا جات اور 4,500 اضافی سپیشلٹی ٹریننگ کی جگہیں بھی دی جائیں گی۔
- •2023 کے موسم گرما سے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کی ہڑتالوں کی وجہ سے NHS کو ایک ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا اور لاکھوں اپائنٹمنٹس منسوخ ہوئیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔