انگلینڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کی 16 ویں ہڑتال، تنخواہوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار
برطانوی حکومت اور طبی عملے کے درمیان عارضی صلح ختم ہو گئی ہے، کیونکہ ریزیڈنٹ ڈاکٹرز نے نو منتخب ہیلتھ سیکرٹری کے عزم کو آزمانے کے لیے 96 گھنٹوں کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
This brief accurately synthesizes conflicting data points from the British Medical Association and the UK Government; it highlights the clash between the union's 'pay restoration' narrative and the state's 'fiscal sustainability' framing.

"میں نے BMA کو واضح کر دیا تھا کہ گزشتہ چار سالوں میں ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں 33.4 فیصد اضافے کے بعد، جو پبلک سیکٹر میں سب سے زیادہ ہے، اس سال مزید بھاری اضافے کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ، ناقابل برداشت اور ناممکن ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ ہڑتال James Murray کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جنہوں نے 14 مئی کو ہیلتھ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالا ہے۔ اپنے دور کے آغاز میں ہی احتجاج شروع کر کے، BMA یہ پیغام دے رہی ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے ان کے 'تنخواہوں کی بحالی' کے مطالبات کمزور نہیں ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ان شرائط کو فوری طور پر مسترد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی حکمت عملی اب بھی دباؤ برقرار رکھنے کی ہے، چاہے NHS کو روزانہ 50 ملین پاؤنڈز کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
تنازع کی بنیادی وجہ مالیاتی اعداد و شمار پر اختلاف ہے: جہاں BMA 2008-09 سے تنخواہوں میں 26 فیصد کمی کا دعویٰ کرتی ہے، وہیں ہیلتھ سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کو گزشتہ چار سالوں میں 33.4 فیصد اضافہ دیا گیا ہے۔ یہ اختلاف ایک دہائی سے جاری مالیاتی جمود کو ختم کرنے کی ڈاکٹروں کی خواہش اور حکومت کی مالیاتی کنٹرول کی پالیسی کے درمیان تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
سرکاری اصطلاح میں 'جونیئر ڈاکٹرز' کو 'ریزیڈنٹ ڈاکٹرز' کا نام دینا ایک حالیہ تبدیلی ہے جس کا مقصد ان پیشہ ور افراد کے تجربے کو اجاگر کرنا ہے۔ اس تنازع کی جڑیں 2008 کے مالیاتی بحران سے ملتی ہیں، جس نے NHS میں تنخواہوں پر پابندیوں اور مہنگائی سے کم اضافے کا ایک سلسلہ شروع کیا، جسے یونینز افرادی قوت کا بحران قرار دیتی ہیں۔
2016 میں جونیئر ڈاکٹرز کی ایک بڑی ہڑتال کے بعد، BMA کی ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کمیٹی نے اب زیادہ سخت موقف اختیار کیا ہے۔ یہ 16 ویں ہڑتال برطانیہ میں کورونا کے بعد بڑھنے والی اس بے چینی کا حصہ ہے، جس میں بلند افراطِ زر نے ان سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے جنہوں نے وبائی دور میں سب سے زیادہ خدمات انجام دیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی جذبات میں شدید تقسیم اور تھکاوٹ نمایاں ہے۔ حکومتی ذرائع BMA کو 'غیر معقول' اور مریضوں کی حفاظت سے بے پرواہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ NHS کے افرادی قوت کا طویل مدتی زوال عارضی ہڑتال سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ عوامی حمایت پر بھی بوجھ بڑھ رہا ہے کیونکہ ہزاروں سرجریز ملتوی کرنی پڑ رہی ہیں۔
اہم حقائق
- •انگلینڈ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹرز نے پیر 15 جون صبح 7 بجے سے جمعہ 19 جون صبح 6:59 بجے تک 96 گھنٹوں کی ہڑتال شیڈول کی ہے۔
- •یہ آنے والی کارروائی مارچ 2023 میں شروع ہونے والی پہلی ہڑتال کے بعد ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کی جانب سے کام کی 16 ویں بندش ہے۔
- •British Medical Association (BMA) انگلینڈ میں NHS میں کام کرنے والے 75,000 میں سے تقریباً 55,000 ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کی نمائندگی کرتی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔