انگلینڈ کے اسکولوں میں بچوں کو کلاس سے نکالنے کے واقعات میں تین گنا اضافہ
برطانیہ میں مقیم پاکستانی فیملیز ہوشیار رہیں، غریب طلبہ کو کلاس سے نکالنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
تصور کریں ایک ایسی کلاس کا جہاں دروازہ پڑھائی کے لیے نہیں بلکہ بچوں کو سب سے الگ تھلگ کرنے کے لیے بند ہوتا ہے، اور انگلینڈ کے اسکولوں میں یہ طریقہ اب خاموشی سے تین گنا بڑھ چکا ہے۔
This report relies on exclusive data from a single management firm (Arbor) as the UK government does not currently collect official national statistics on internal exclusions. The tags reflect the analytical nature of the piece while noting that the data lacks third-party corroboration.

"انٹرنل ایکسلوژن (اندرونی اخراج) دراصل بچوں کو اسکول کا حصہ رکھنے کا ہی ایک طریقہ ہے۔ یہ ان بچوں کو سبق سکھانے کے لیے ہے جو دوسروں کی پڑھائی میں خلل ڈالتے ہیں، تاکہ وہ گھر بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے اسکول میں رہ کر اپنی غلطی کا احساس کریں۔"
تفصیلی جائزہ
آئسولیشن رومز (isolation rooms) کا بڑھتا ہوا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ انگلینڈ کے اسکول اب بچوں کو گھر بھیجنے کے بجائے اسکول کے اندر ہی رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے بچوں کی حفاظت ہوتی ہے، لیکن غریب بچوں میں 175 فیصد اضافہ اس نظام پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
سرکاری اور نجی اعداد و شمار میں واضح فرق پایا جاتا ہے؛ جہاں باقاعدہ معطلیوں میں کمی آئی ہے، وہیں یہ پوشیدہ طریقہ کار تیزی سے بڑھا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے بچوں کے قانونی تحفظ اور شفافیت پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
روایتی طور پر، انگلینڈ کے اسکول بچوں کو معطل کرتے تھے جس کی رپورٹ Department for Education کو دینا لازمی ہوتی تھی۔ لیکن پچھلے دس سالوں میں 'انٹرنل ایکسلوژن' کا رجحان بڑھا ہے تاکہ بچوں کو پڑھائی کا ماحول فراہم کرتے ہوئے کلاس سے دور رکھا جا سکے۔
COVID-19 کی وبا کے بعد اس رجحان میں تیزی آئی ہے کیونکہ بچوں میں ذہنی صحت اور برتاؤ کے مسائل بڑھے ہیں۔ تاہم، ان کمروں کا معیار مختلف ہے؛ کہیں بچوں کو ٹیوٹر ملتا ہے تو کہیں انہیں صرف 'آئسولیشن بوتھ' میں بند کر دیا جاتا ہے۔
عوامی ردعمل
اس معاملے پر رائے منقسم ہے۔ اسکولوں کے سربراہان اسے ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے علمبردار اسے کمزور بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی نفسیاتی ضرورتوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •انگلینڈ کے سیکنڈری اسکولوں میں بچوں کو الگ تھلگ کرنے کی شرح 2022/2023 میں 5 فیصد سے بڑھ کر 2025/2026 میں 13 فیصد ہو گئی ہے۔
- •غریب اور مستحق طلبہ کو کلاس سے نکالنے کی شرح 22 فیصد ہے، جو کہ دیگر بچوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔
- •باقاعدہ معطلی کے برعکس، جہاں بچوں کو گھر بھیج دیا جاتا ہے، UK حکومت فی الحال ان اندرونی سزاؤں کا کوئی سرکاری ڈیٹا جمع نہیں کرتی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔