انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر قانونی پابندی، نئی نسل کی جانب سے شدید ردِعمل
برطانوی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں ڈیجیٹل رابطوں پر ملک گیر کریک ڈاؤن کے بعد نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی مزاحمت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اب صرف فون کا نہیں رہا بلکہ جدید شناخت اور تحفظ کے ذرائع پر قبضے کی جنگ بن چکا ہے۔
The brief accurately reflects the findings of a University College London study and follows a clinical, sociological approach to analyzing the divide between policy-makers and the student population.

"بڑوں کا خیال ہے کہ پابندی سے خلل ختم ہوگا اور کلاس روم کا نظم و ضبط بہتر ہوگا، جبکہ طلبہ کے نزدیک اسمارٹ فونز رابطے، تحفظ، جذبات کو سنبھالنے اور روزمرہ کی تنظیم کے لیے ضروری ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
اس قانونی پابندی کا نفاذ نابالغ بچوں کی ڈیجیٹل زندگی پر ریاست اور اداروں کے کنٹرول کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈیوائسز کو ہٹانا نظم و ضبط کی بحالی کے لیے ضروری ہے، لیکن UCL کی رپورٹ اسے ایک سادہ حل قرار دیتی ہے۔ اصل تنازع ڈیوائس کی تعریف پر ہے: جہاں ریاست اسے خلل کی جڑ سمجھتی ہے، وہاں طلبہ اسے اپنی حفاظت اور جذبات کی تنظیم کا اہم ذریعہ دیکھتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس پابندی سے ڈیجیٹل نقصانات چھپ کر ہونے لگیں گے۔ رپورٹ ایک تضاد کی نشاندہی کرتی ہے: اگرچہ پابندی سے اسکولوں میں سائبر بلینگ اور ہراساں کرنے کے واقعات بظاہر کم نظر آئیں گے، لیکن اس سے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان رابطے کا لنک بھی کٹ جائے گا، جس سے ان مسائل کو مانیٹر کرنا اور حل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
انگلینڈ میں اس قانونی پابندی کی راہ پچھلے دس سالوں سے ہموار ہو رہی تھی، جس کی وجہ سوشل میڈیا اور اسکرین ٹائم کے بچوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ 2010 کی دہائی کے وسط سے برطانیہ کی وزارتِ تعلیم اس حوالے سے گائیڈ لائنز دے رہی تھی جو اب ایک لازمی قانون بن چکا ہے۔
یہ تبدیلی پورے یورپ میں نظر آ رہی ہے۔ France نے 2018 میں 'رائٹ ٹو ڈسکیکٹ' کے تحت پرائمری اور مڈل اسکولوں میں موبائل فونز پر قومی پابندی لگا کر اس تحریک کا آغاز کیا تھا۔ انگلینڈ کی 2026 کی پابندی برسوں کے سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر صورتحال دو نسلوں کے درمیان شدید تقسیم کو ظاہر کرتی ہے۔ اساتذہ اور والدین اسے ایک خوش آئند قدم اور نظم و ضبط کے لیے آسان قرار دے رہے ہیں، جبکہ طلبہ خود کو نشانہ بنائے جانے اور محروم ہونے کا احساس کر رہے ہیں۔ نوجوان اسے مددگار کے بجائے ایک 'سزا' کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر قانونی پابندی 29 جون 2026 سے نافذ العمل ہوگئی ہے، جس کے تحت اب اسکول اور تعلیمی ادارے فون فری ماحول برقرار رکھنے کے قانونی طور پر ذمہ دار ہیں۔
- •University College London (UCL) کی ایک تحقیق کے مطابق، جس میں 732 ثانوی طلبہ شامل تھے، 75 فیصد طلبہ نے اس مکمل پابندی کی مخالفت کی ہے۔
- •دوسری جانب بڑوں میں اس پابندی کی حمایت بہت زیادہ ہے؛ سروے میں 87 فیصد اساتذہ اور 88 فیصد والدین نے ان پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔