ایتھوپیا کے اہم ترین انتخابات: ایبی احمد منقسم ملک میں اپنی طاقت مضبوط کرنے کے خواہشمند
ایتھوپیا میں ووٹنگ کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں وزیراعظم ایبی احمد ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ وہ بکھرے ہوئے جمہوری عمل کے بدلے وفاقی طاقت کو مستقل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
The synthesis highlights a stark contrast between the Ethiopian government's official democratic narrative and the critiques from regional analysts and opposition groups regarding political exclusion. The tags reflect the analysis of these conflicting political interpretations rather than established consensus facts.

""کچھ اپوزیشن جماعتوں کو باہر کر دیا گیا ہے اور درجنوں حلقوں میں تشدد کی وجہ سے ووٹنگ نہیں ہو پا رہی۔""
تفصیلی جائزہ
2026 کا الیکشن عوامی رائے جاننے سے زیادہ ایبی احمد کی اپنی 'Medemer' (قومی یکجہتی) کی فلاسفی کو ثابت کرنے کی ایک تزویراتی چال ہے۔ 2022 میں ٹگرے (Tigray) میں بڑی لڑائی ختم ہونے کے بعد سے، وزیراعظم نے طاقت کو مرکز میں جمع کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کیے ہیں، جو اکثر ملک کے نسلی وفاقی ڈھانچے کی قیمت پر کیے گئے۔ اس ووٹ کو 'حقیقی جمہوریت' کی سمت ایک قدم قرار دے کر، Prosperity Party کی انتظامیہ بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ قانونی رکاوٹوں اور بیوروکریٹک حربوں کے ذریعے ملکی اپوزیشن کو بے اثر کیا جا رہا ہے۔
طاقت کا توازن بری طرح بگڑا ہوا ہے، جس سے ایک ایسا 'اعتبار کا خلا' پیدا ہو رہا ہے جو مستقبل کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ جہاں حکومت کے زیرِ اثر میڈیا ایک یقینی کامیابی کی تصویر کشی کر رہا ہے، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اورومیا (Oromia) اور امہارا (Amhara) جیسے اہم علاقوں میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی عدم موجودگی اس جمہوری عمل کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ Al Jazeera کے مطابق حکمران جماعت اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے، جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ بکھرے ہوئے ووٹرز اور علاقائی تقسیم الیکشن کے بعد مصالحت کے بجائے مزید بے چینی کا باعث بن سکتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
ایتھوپیا کا سیاسی رخ 2018 میں اس وقت بدلا جب ایبی احمد نے عہدہ سنبھالا اور Tigray People's Liberation Front (TPLF) کی دہائیوں پرانی بالادستی کا خاتمہ کیا۔ ان کے دور کے آغاز میں تیزی سے اصلاحات ہوئیں اور اریٹیریا کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر انہیں Nobel Peace Prize بھی دیا گیا۔ تاہم، ان اصلاحات نے نادانستہ طور پر نسلی تناؤ کو ہوا دی، کیونکہ علاقائی طاقتوں نے مرکز کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں 2020 میں تباہ کن Tigray War شروع ہوئی۔
دہائیوں سے ایتھوپیا 1995 کے آئین کے تحت نسلی وفاقیت (ethnic federalism) کے نظام پر چل رہا تھا، جس نے نسل کی بنیاد پر علاقائی ریاستوں کو کافی حد تک خودمختاری دی تھی۔ ایبی احمد کا متحد قومی شناخت کی طرف جھکاؤ اور Prosperity Party کی تشکیل اس پرانے ماڈل سے مکمل انحراف ہے۔ یہ نظریاتی تبدیلی موجودہ تنازعات کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ علاقائی اشرافیہ مرکزیت کو اپنے تاریخی حقوق اور خود مختاری کے لیے ایک خطرہ سمجھتے۔
عوامی ردعمل
عام تاثر شدید خدشات اور شکوک و شبہات کا ہے۔ ادارتی تجزیہ بتاتا ہے کہ اگرچہ حکومت ترقی اور استحکام کی تصویر دکھا رہی ہے، لیکن آزاد مبصرین اور مقامی ناقدین ان انتخابات کو ایک ایسا کھوکھلا عمل قرار دے رہے ہیں جو مقامی شورشوں اور سیاسی جبر کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ریاست کی جانب سے جس 'حقیقی جمہوریت' کا وعدہ کیا گیا تھا، اسے ایک سخت اور مرکزی آمریت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •ایتھوپیا میں عام انتخابات یکم جون 2026 کو شیڈول ہیں، جس کے لیے لاکھوں شہری رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
- •وزیراعظم ایبی احمد کی قیادت میں حکمران Prosperity Party، جو 2018 میں اقتدار میں آئی تھی، اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
- •سیکیورٹی خدشات اور نسلی تشدد کی وجہ سے درجنوں انتخابی حلقوں میں ووٹنگ باضابطہ طور پر ملتوی یا معطل کر دی گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔