سندھ میں چھ نئے انتظامی یونٹس بننے والے ہیں، فاروق ستار کا دعویٰ
سندھ کی ممکنہ تقسیم کراچی کے اردو بولنے والوں کے لیے مقامی نظام اور سیاسی طاقت بدل سکتی ہے۔
صوبائی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے MQM-P کے رہنما فاروق ستار نے اعلان کیا ہے کہ چھ نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے سندھ میں اختیارات کی منتقلی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
This report relies on a single source from Daily Jang and highlights a politically charged claim regarding the administrative division of Sindh, which remains a highly disputed and unverified proposal.

"انشاء اللہ، سندھ میں چھ انتظامی یونٹس بننے جا رہے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
ڈیلی جنگ کے مطابق، فاروق ستار نے نئے یونٹس کو گورننس کی ناکامی سے جوڑا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انتظامیہ کی ناکامی پر اقتدار کی منتقلی لازمی ہو جاتی ہے۔ یہ بیان MQM-P اور PPP کے درمیان دیرینہ کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ان 'چھ یونٹس' کے دعوے کی وفاقی حکام یا کسی قانون سازی کی سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
سندھ حکومت کا فوری ردعمل 'سندھ کی تقسیم' کے معاملے پر حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اردو بولنے والی آبادی کے لیے یہ قدم کراچی جیسے شہروں میں خود مختاری کی علامت ہے، مگر آئینی ترمیم کے بغیر یہ محض ایک سیاسی خواہش ہی نظر آتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
سندھ میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کا مطالبہ 1980 کی دہائی سے MQM کی سیاست کا محور رہا ہے، جس کی بنیاد کوٹہ سسٹم اور اردو بولنے والوں کی مبینہ محرومی ہے۔
پاکستان کے آئین کی 18 ویں ترمیم نے صوبوں کو خود مختاری تو دی، مگر نئے صوبے کی تشکیل کو ایک پیچیدہ عمل بنا دیا جس کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
عوامی ردعمل
صورتحال شدید ٹکراؤ اور تقسیم کی ہے؛ جہاں MQM-P تبدیلی کے لیے پرامید ہے، وہیں سندھ حکومت صوبائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔
اہم حقائق
- •فاروق ستار نے عوامی سطح پر سندھ کے اندر چھ نئے انتظامی یونٹس بنانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔
- •سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے ان دعووں کو صوبے کی تقسیم کا خواب قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
- •MQM-P نے کراچی کے ضلع وسطی میں مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔