پاکستان کے FBR کو 864 ارب روپے کی کمی کا سامنا: IMF ریویو سے پہلے بڑا مالیاتی جوا
قومی کھاتوں میں 864 ارب روپے کے بڑے خسارے اور IMF کے شدید دباؤ کے بعد، پاکستان کی ٹیکس مشینری اب جون کے مہینے میں ایک مشکل ترین دوڑ پر مجبور ہے، جہاں اس فرق کو ختم کرنے کے لیے روزانہ تقریباً 91.6 ارب روپے کی تقریباً ناممکن وصولی کی ضرورت ہے۔
While the core 11-month shortfall is consistently reported, there is a significant discrepancy regarding the May deficit between different outlets, leading to the 'Disputed Claims' tag; the 'Economic Alarmism' tag reflects the urgent and dramatic tone regarding the FBR's ability to meet IMF-driven targets.

"ٹیکس مشینری کو اب صرف جون کے مہینے میں 13.98 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 91.6 ارب روپے روزانہ کی شرح سے 2.75 ٹریلین روپے جمع کرنے کی ضرورت ہے۔"
تفصیلی جائزہ
تزویراتی نقطہ نظر سے، FBR ایک دوہری مشکل میں پھنس چکا ہے: ایک طرف آمدنی میں جمود اور دوسری طرف IMF کے بڑھتے ہوئے مطالبات۔ ڈیٹا سے ایک نظامی ناکامی ظاہر ہوتی ہے جہاں ٹیکس وصولی کی 10 فیصد شرح GDP کی 14 فیصد ترقی سے نمایاں طور پر کم ہے، جو بڑے پیمانے پر لیکیج اور معیشت کی اصل قدر کو حاصل کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کی تلافی کے لیے، حکومت جارحانہ اقدامات کی تجویز دے رہی ہے جس میں تیل کے شعبے پر 20 فیصد ونڈ فال ٹیکس اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنا شامل ہے، جو کہ ریٹیل سیکٹر کو نیٹ میں لانے کے بجائے موجودہ کارپوریٹ اداروں پر ٹیکس لگانے کی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹنگ میں مئی کے خسارے کے حجم میں واضح تضاد نظر آتا ہے، جہاں مختلف ذرائع 184 ارب سے 190 ارب روپے کے فرق کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ ایک اور ذریعہ اسے صرف 28 ارب روپے بتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے اعداد و شمار زیادہ درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں اضافے اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کے ذریعے اس خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ 'مصنوعی' مالیاتی انتظام ایک ہائی رسک جوا ہے جس کا مقصد بجٹ مذاکرات سے قبل پرائمری بجٹ سرپلس کا تاثر برقرار رکھنا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان تاریخی طور پر خطے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے سب سے کم تناسب کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، جو دہائیوں سے 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہا ہے۔ اس مسلسل ناقص کارکردگی نے ملک کو IMF کا دائمی قرض دار بنا دیا ہے، جہاں ہر پروگرام میں ٹیکسوں کے سخت اہداف مقرر کیے جاتے ہیں جنہیں FBR ڈھانچہ جاتی نااہلیوں اور طاقتور لابیوں کی سیاسی مزاحمت کی وجہ سے پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
موجودہ بحران درآمدی مرحلے پر بالواسطہ ٹیکسوں اور ودہولڈنگ ٹیکس پر سالہا سال سے جاری انحصار کا نتیجہ ہے، جنہیں جمع کرنا تو آسان ہے لیکن یہ ریٹیل، ریئل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں میں چھپی دولت تک نہیں پہنچ پاتے۔ ہائبرڈ گاڑیوں اور تیل کے شعبے پر ٹیکس لگانے کا رجحان پاکستانی مالیاتی تاریخ کا ایک بار بار دہرایا جانے والا حصہ ہے، جہاں ریاست غیر دستاویزی معیشت کو رجسٹر کرنے میں ناکامی کے باعث بار بار رسمی صنعتی شعبے کو دباتی ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر صورتحال تشویشناک اور شکوک و شبہات سے بھرپور ہے۔ بڑے مالیاتی اداروں کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ FBR کے اہداف کی ناکامی محض ایک اعداد و شمار کی غلطی نہیں بلکہ گہرے مالیاتی بگاڑ کی علامت ہے جو حکومت کی آئندہ بجٹ حکمت عملی اور عالمی قرض دہندگان کے سامنے اس کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے۔
اہم حقائق
- •Federal Board of Revenue (FBR) نے مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں تقریباً 864 ارب روپے کے مجموعی ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کیا ہے۔
- •مئی 2026 کے لیے ٹیکس وصولی تقریباً 966 ارب روپے رہی، جو کہ ماہانہ ہدف سے تقریباً 184 ارب روپے کم تھی۔
- •رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی میں 10 فیصد اضافہ ملک کی 14 فیصد کی برائے نام اقتصادی ترقی کی شرح سے پیچھے رہ گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔