وارش کا پہلا بڑا قدم: مشرق وسطیٰ کی بے یقینی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث Federal Reserve نے شرح سود برقرار رکھی
Federal Reserve کے چیئرمین Kevin Warsh نے بڑی احتیاط کے ساتھ نرم مانیٹری پالیسی کے خاتمے کا اشارہ دے دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور Iran سے متعلق بدلتی ہوئی پالیسی کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کے خطرے کے پیش نظر شرح سود کو اپنی جگہ برقرار رکھا گیا ہے۔
The report accurately synthesizes official FOMC data and unanimous voting results while correctly distinguishing between consensus economic facts and regional political claims regarding the specific origins of Middle Eastern volatility.

"مہنگائی کمیٹی کے 2 فیصد ہدف کے مقابلے میں ابھی بھی زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ سپلائی میں رکاوٹیں ہیں جنہوں نے انرجی سمیت کچھ خاص شعبوں میں قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ سینٹرل بینک کی سوچ میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب توجہ شرح سود میں کمی کے بجائے عالمی سپلائی کے مسائل سے نمٹنے پر ہے۔ Kevin Warsh نے پرانی پالیسی کو ختم کر کے دوبارہ لچک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں Iran تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمتیں امریکی صارفین پر ایک بوجھ بن چکی ہیں۔ اگر چوتھی سہ ماہی تک تیل کی قیمتیں مستحکم نہ ہوئیں تو کمیٹی میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
مارکیٹ کی پریشانی کی وجہ پر دو مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ BBC کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر یقینی صورتحال Trump کی Iran ڈیل کی وجہ سے ہے، جبکہ FOMC کے سرکاری بیان میں اسے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی قرار دیا گیا ہے۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ ایک اسے پالیسی کا بحران قرار دیتا ہے تو دوسرا مارکیٹ کا۔ بہرحال، Warsh نے اشارہ دیا ہے کہ Federal Reserve اب عالمی سیاست کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
پس منظر اور تاریخ
یہ میٹنگ Kevin Warsh کے لیے پہلا بڑا امتحان ہے، جنہوں نے Jerome Powell کے بعد Federal Reserve کی سربراہی سنبھالی۔ Jerome Powell کے دور میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے شرح سود میں جارحانہ اضافہ کیا گیا تھا، لیکن Kevin Warsh کی تقرری کو زیادہ سخت مانیٹری پالیسی کی طرف واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال 1970 کی دہائی کے سپلائی کے مسائل کی یاد دلاتی ہے جب مشرق وسطیٰ کی بے یقینی نے معیشت کا رخ طے کیا تھا۔ Federal Reserve کے لیے 2 فیصد کا ہدف حاصل کرنا اب 2028 تک مشکل نظر آتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی عوامل جیسے انرجی کی قیمتیں، لیبر مارکیٹ پر حاوی ہو چکی ہیں۔
عوامی ردعمل
عوام اور ماہرین کے ردعمل میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے جسے 'ہاکش ویٹنگ' (انتظار کی پالیسی) کہا جا رہا ہے۔ مالیاتی مارکیٹیں جو پہلے شرح سود میں کمی کی امید لگائے بیٹھی تھیں، اب خود کو طویل عرصے تک بلند شرح سود کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ ایڈیٹوریل بورڈز کا کہنا ہے کہ Kevin Warsh کی نئی پالیسی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے اور پچھلی دہائی جیسی شفافیت اب ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
اہم حقائق
- •FOMC نے متفقہ طور پر (12-0) وفاقی فنڈز کی شرح سود کو 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- •Federal Reserve نے 2026 کے لیے مہنگائی کی پیش گوئی (PCE) کو 2.7 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد کر دیا ہے۔
- •اقتصادی تخمینوں کے خلاصے کے مطابق 19 میں سے 18 حکام کا خیال ہے کہ سال کے اختتام سے پہلے شرح سود میں کم از کم ایک بار مزید اضافہ ہو گا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔