فلوریڈا کے امیگریشن سینٹر میں قیدیوں کو فون بوتھ جتنے پنجروں میں رکھنے کا انکشاف
فلوریڈا میں تارکین وطن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی رپورٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے تشویشناک ہو سکتی ہے۔
ایک وفاقی تحقیقاتی رپورٹ نے 'Alligator Alcatraz' کی ہولناک حقیقت بے نقاب کر دی ہے، جہاں ریاست فلوریڈا میں انسانوں کو فون بوتھ سے بھی چھوٹے دھاتی ڈبوں میں قید رکھا گیا۔
This report synthesizes findings from an official federal watchdog (OIG) while highlighting the direct contradictions and combative denials issued by Florida state officials. The 'State-Critical' and 'Disputed Claims' tags reflect the significant friction between federal investigative findings and the state's official narrative.

"لیفٹ ونگ میڈیا صرف قید کی جگہ پر توجہ دینا چاہتا ہے... اگر بس چلتا تو ہم اسے اس سے بھی چھوٹا بنا دیتے۔"
تفصیلی جائزہ
اس رپورٹ نے وفاقی اداروں اور فلوریڈا کی قیادت کے درمیان ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں DHS کے انسپکٹر جنرل نے ان پنجروں کو غیر انسانی قرار دیا، وہیں گورنر Ron DeSantis کے دفتر نے اسے ایک سیاسی ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
BBC اور The Guardian کی رپورٹس کے مطابق، یہ صورتحال امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے لیے ان خطرات کی نشاندہی کرتی ہے جو ریاستی اور وفاقی قوانین کے ٹکراؤ کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
یہ سینٹر 2025 میں گورنر Ron DeSantis کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی کرنا تھا۔
ان پنجروں کا استعمال ICE کے معیاری قوانین کی خلاف ورزی تھا، اور شدید قانونی دباؤ اور سمندری طوفانوں کے سیزن کی وجہ سے اسے جون 2026 میں بند کر دیا گیا۔
عوامی ردعمل
رپورٹس میں شدید تناؤ اور مذمت کا پہلو نمایاں ہے، جہاں انسانی حقوق کے علمبردار اسے ایک سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •Department of Homeland Security (DHS) کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان 79 تارکین وطن کو 18 مربع فٹ کے بیرونی پنجروں میں رکھا گیا۔
- •'Alligator Alcatraz' نامی یہ مرکز فلوریڈا کے دلدلی علاقے ایورگلیڈز میں بنایا گیا تھا، جس پر روزانہ 12 لاکھ ڈالر خرچ ہو رہے تھے۔
- •انسپکٹرز کو صفائی کے سنگین مسائل ملے، جن میں کیڑے مکوڑوں سے بھرے شاور اور پینے کے صاف پانی کی کمی شامل تھی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔