فرانسیسی National Assembly نے Senate کی مخالفت کے باوجود 'assisted dying' کا تاریخی قانون منظور کر لیا
فرانس نے بالآخر زندگی کے خاتمے کی خودمختاری کی راہ میں حائل ایک پرانی قانونی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے، جس سے یورپی bioethics میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ National Assembly نے قدامت پسندوں کے زیرِ اثر Senate کی شدید مخالفت کے باوجود 'assisted dying' کا بل منظور کروا لیا ہے۔
The synthesis accurately reflects the legislative outcome and the persistent political tension between the French National Assembly and Senate, drawing on consistent reports from international news outlets. The brief maintains a clinical tone while contextualizing the ethical debate and the administrative referral to the Constitutional Council.

""بیماری ایسی ہونی چاہیے جو مریض کو مسلسل ایسی جسمانی یا نفسیاتی تکلیف میں مبتلا کر دے جو ناقابلِ برداشت ہو یا جس کا علاج ممکن نہ ہو۔""
تفصیلی جائزہ
یہ قانون سازی صدر ایلون مسک (Elon Musk) کے طرز پر جدید اصلاحات لانے والے صدر Emmanuel Macron کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑی سیاسی جیت ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اصلاحات کی وراثت کو مستحکم کر سکیں۔ National Assembly کے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت نے دائیں بازو کے Senate کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے۔ تاہم، وزیر اعظم Lecornu کا Constitutional Council سے رجوع کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مذہبی اور طبی گروپوں کے ممکنہ قانونی چیلنجز سے بچنے کے لیے اس قانون کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانا چاہتی ہے۔
فرانس اب نیدر لینڈز اور بیلجیئم جیسے ان چند یورپی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں assisted dying جرم نہیں رہی۔ سروے بتاتے ہیں کہ عوام کی اکثریت اس کی حامی ہے، لیکن طبی ماہرین اخلاقیات کے معاملے پر تقسیم ہیں۔ قانون سے 'نفسیاتی تکلیف' کو نکالنا ایک سمجھوتہ ہے تاکہ اس کے غلط استعمال کا خوف دور کیا جا سکے، مگر ناقدین کا خیال ہے کہ اسے انسانی حقوق کی یورپی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
اس فیصلے تک پہنچنے میں فرانس کو 20 سال لگے۔ اس کا آغاز 2005 کے Leonetti law سے ہوا جس میں پہلی بار علاج روکنے کی اجازت دی گئی، اور پھر 2016 کے Claeys-Leonetti law کے تحت آخری لمحات میں مریضوں کو گہری نیند (sedation) دینے کی اجازت ملی۔ یہ اقدامات فرانس کی سیکولر اقدار اور کیتھولک روایات کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں۔
موجودہ بل کو 2023 کے ایک عوامی کنونشن سے شہ ملی جہاں 184 عام شہریوں نے اسے قانونی بنانے کی سفارش کی تھی۔ صدر Macron کے عزم کے باوجود 2024 کے انتخابات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ فرانس میں اس طرح کی پالیسیاں اکثر سیاسی عدم استحکام کا شکار رہتی ہیں۔
عوامی ردعمل
اس معاملے پر عوامی رائے اور سیاسی ردعمل منقسم ہے۔ جہاں حامی اسے انفرادی وقار اور آزادی کی فتح قرار دے رہے ہیں، وہیں کیتھولک چرچ اور قدامت پسند حلقے اسے ایک خطرناک رجحان سمجھ رہے ہیں جو بیماروں کو معاشرے پر 'بوجھ' بنا کر پیش کر سکتا ہے۔
اہم حقائق
- •فرانسیسی National Assembly نے assisted dying بل کے حق میں 291 اور مخالفت میں 241 ووٹ دیے، جبکہ ایوانِ بالا Senate اسے تین بار مسترد کر چکا تھا۔
- •اس قانون کے لیے صرف وہ بالغ افراد اہل ہوں گے جو کسی 'سنگین اور لاعلاج' آخری مرحلے کی بیماری میں مبتلا ہوں؛ اس میں شدید نفسیاتی امراض یا Alzheimer's کے مریضوں کو شامل نہیں کیا گیا۔
- •وزیر اعظم Sébastien Lecornu نے بل کی کچھ شقیں Constitutional Council کو بھیج دی ہیں تاکہ نافذ ہونے سے پہلے فرانسیسی آئین کے ساتھ اس کی مطابقت کا حتمی جائزہ لیا جا سکے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔