راکفٹ میں سزائے موت کا منظر: زیر حراست غزہ کے سرجن کو شدید تشدد کے الزامات کا سامنا
فوجی ضرورت اور بین الاقوامی قانون کے درمیان جاری کشمکش اب ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق غزہ کے ایک نامور سرجن کو اسرائیلی تفتیشی مرکز کے بند دروازوں کے پیچھے آہستہ آہستہ موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
This brief synthesizes graphic first-hand accounts of abuse provided by defense counsel alongside categorical denials from Israeli prison authorities. The 'Sensationalized' and 'Disputed' tags are applied because the report uses emotive language to frame claims that have not been independently verified by neutral third-party observers.

"میں جہنم میں جی رہا ہوں۔ انسانی دماغ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں روزانہ کس تکلیف سے گزرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ کسی نے مجھے مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
اعلیٰ سطح کے طبی حکام کی حراست غزہ کے باقی ماندہ شہری ڈھانچے پر سٹریٹجک دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مراکز عسکریت پسندوں کے ٹھکانے ہیں، لیکن Hussam Abu Safiya جیسے ڈائریکٹرز کو بغیر کسی رسمی الزام یا ٹرائل کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنا اس بیانیے کو سیکیورٹی آپریشن سے بدل کر انسانی ہمدردی کی قیادت کے منظم خاتمے کی طرف لے جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی سماعت کے بعد ڈاکٹر کے خلاف تشدد میں مبینہ اضافہ جیل کے نظام کے اندر احتساب کے عمل کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
ثبوتوں کا ٹکراؤ واضح ہے: Israel Prison Service تشدد کے الزامات کو صریحاً غلط قرار دے رہی ہے، جبکہ وکیل کی آنکھوں دیکھی گواہی ایک ایسے شخص کی تصویر کشی کرتی ہے جو موت کے دہانے پر ہے۔ یہ تضاد اسرائیلی فوجی حراستی مراکز کی پراسرار نوعیت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بین الاقوامی مبصرین کو اکثر داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت اس بات کا ایک کڑا امتحان ہے کہ آیا اسرائیلی عدلیہ ہائی پروفائل قیدیوں کے ساتھ سیکیورٹی اداروں کے سلوک پر کوئی کنٹرول رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
پس منظر اور تاریخ
غزہ میں طبی عملے کو نشانہ بنانا اور ان کی حراست بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ہسپتالوں کی محفوظ حیثیت پر طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا نتیجہ ہے۔ 2023 کے آخر میں تنازعہ میں شدت آنے کے بعد سے، اسرائیلی فوج مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ طبی کمپلیکس Hamas کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے Al-Shifa اور Kamal Adwan جیسی سہولیات کا محاصرہ اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔
تاریخی طور پر، اسرائیل کا انتظامی حراست کا نظام خفیہ ثبوتوں کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو بغیر کسی ٹرائل یا الزام کے قابل تجدید مدت کے لیے قید رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ عمل دہائیوں سے ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے، جس پر UN اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل مذمت کرتی آئی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ طریقہ کار قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتا ہے اور ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جہاں جسمانی تشدد بغیر کسی خوف کے کیا جا سکتا ہے۔
عوامی ردعمل
قانونی اور انسانی حقوق کے مبصرین میں گہری تشویش پائی جاتی ہے، اور ڈاکٹر کی گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر ایک بڑے المیے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکومت اپنے سیکیورٹی کے جواز پر قائم ہے، لیکن بین الاقوامی میڈیا کی کوریج قیدیوں کے لیے جہنم جیسی صورتحال کو اجاگر کر رہی ہے، جو غزہ کے طبی ڈھانچے پر سیکیورٹی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کی انسانی قیمت پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •ڈاکٹر Hussam Abu Safiya دسمبر 2024 میں Kamal Adwan Hospital سے اپنی گرفتاری کے بعد سے گزشتہ 18 ماہ سے زائد عرصے سے بغیر کسی الزام کے اسرائیلی حکام کی حراست میں ہیں۔
- •دفاعی وکیل Nasser Odeh نے 2 جولائی 2026 کو Rakefet سینٹر کے دورے کے بعد تشدد کے واضح جسمانی ثبوتوں کی اطلاع دی، جن میں شدید نیل اور سانس لینے میں دشواری شامل تھی۔
- •اسرائیلی سپریم کورٹ نے Hussam Abu Safiya اور 13 دیگر فلسطینی طبی ماہرین کی رہائی کی درخواست پر حکومت کو 7 جولائی 2026 تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔