ہوا اور تپش میں بٹی ہوئی دنیا: نئے عالمی اسکور کارڈ نے کلائمیٹ ریزیلینس کی درجہ بندی کر دی
جہاں ایک زمانے میں معتدل رہنے والے علاقوں میں درجہ حرارت جھلسا دینے والے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے، وہیں ایک نئے عالمی اسکور کارڈ نے ان ممالک کے درمیان واضح فرق کو بے نقاب کر دیا ہے جو صاف ہوا کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور وہ جو اب بھی گرم ہوتی دنیا کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
The brief accurately conveys the rankings from the 2026 Yale Environmental Performance Index as reported by The Guardian, though it adopts the source's evocative and urgent tone regarding climate disparities.

"کچھ معاملات پر پیش رفت ہو رہی ہے لیکن کلائمیٹ چینج جیسے اہم مسائل پر اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ اور جب ملکوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچتا ہے، تو یہ پالیسی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ نتائج عالمی گورننس کی ایک عجیب کامیابی کی نشاندہی کرتے ہیں: انسانوں نے تیزابی بارش اور پینے کے غیر محفوظ پانی جیسے مقامی بحرانوں کو حل کرنے میں مہارت حاصل کر لی ہے کیونکہ ان کے فوائد فوری اور سیاسی طور پر واضح ہوتے ہیں۔ تاہم، کلائمیٹ کرائسز کا نظامی خطرہ پالیسی پر عملدرآمد کے معاملے میں اب بھی پیچھے ہے۔ اگرچہ Estonia اور Luxembourg کو اخراج میں کمی پر سراہا گیا ہے، لیکن انڈیکس خبردار کرتا ہے کہ شدید ہیٹ ویوز کے باوجود دنیا کا بیشتر حصہ اب بھی نیٹ زیرو (net-zero) کے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
درجہ بندی میں یہ فرق تیز رفتار صنعت کاری اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ The Guardian کے مطابق، جہاں United States گر کر 27 ویں نمبر پر آ گیا ہے، وہیں یورپی ممالک ٹاپ 20 میں حاوی ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں علاقائی پالیسیاں معاشی ترقی کو ماحولیاتی تباہی سے الگ کرنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس، India اور Bangladesh جیسے ممالک کو موسمیاتی اثرات کے خطرے اور محدود وسائل کے ساتھ بڑی ترقی پزیر معیشتوں کو تبدیل کرنے کے دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Yale Environmental Performance Index (EPI) 2002 سے عالمی رجحانات پر نظر رکھے ہوئے ہے، جو ایک سادہ ماحولیاتی پیمائش سے بڑھ کر قومی پائیداری کے 47 اشاروں پر مبنی ایک پیچیدہ جائزے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں، عالمی توجہ مقامی آلودگی کو صاف کرنے جیسے 'اینڈ آف پائپ' (end-of-pipe) حل سے ہٹ کر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے نمٹنے کے لیے عالمی توانائی کے نظاموں کی تشکیل نو کے مشکل کام کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔
تاریخی طور پر، عالمی شمال (Global North) مجموعی اخراج کا بڑا ذمہ دار تھا، لیکن اب EPI موجودہ پیش رفت اور پالیسی کی تاثیر کی پیمائش کرتا ہے۔ Estonia کا ٹاپ پوزیشن پر آنا بالٹک اور شمالی یورپی ریاستوں میں دہائیوں پر محیط ڈیکاربنائزیشن (decarbonization) کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ترقی United States کی تاریخی سیاسی اتار چڑھاؤ کے بالکل برعکس ہے، جہاں ماحولیاتی ضوابط اکثر حکومتوں کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ترقی یافتہ دنیا کے بڑے حصے سے پیچھے رہ گیا ہے۔
عوامی ردعمل
ان نتائج پر عوامی ردعمل میں تیزی سے 'موسمیاتی بے چینی' (climate anxiety) اور ادارہ جاتی تبدیلی کی سست رفتاری پر مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ United Kingdom اور Estonia جیسے اعلیٰ درجے کے ممالک میں ایک حد تک قومی فخر پایا جاتا ہے، لیکن سائنسدانوں اور شہریوں کی جانب سے احتجاج بڑھ رہا ہے جن کا کہنا ہے کہ اسکور کارڈ پر ہونے والی پیش رفت اکثر ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز کی تلخ حقیقت کو چھپا دیتی ہے۔ اب بیانیہ معمولی پالیسی تبدیلیوں کے جشن سے ہٹ کر فوری ٹھنڈک اور بقا کے مطالبے میں بدل رہا ہے۔
اہم حقائق
- •Yale University کے Environmental Performance Index نے 177 ممالک میں سے Estonia کو بہترین کارکردگی دکھانے والا ملک قرار دیا ہے۔
- •عالمی درجہ بندی میں United States اس وقت 27 ویں نمبر پر ہے، جو Australia اور United Kingdom جیسے ممالک سے پیچھے ہے۔
- •2026 کے انڈیکس میں سب سے نیچے رہنے والے تین ممالک، جہاں ماحولیاتی چیلنجز سب سے زیادہ ہیں، Laos، India اور Bangladesh ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔