عالمی سطح پر بے گھر افراد کی تعداد ریکارڈ 117.8 ملین تک پہنچ گئی، لبنان میں پناہ گزینوں کا بحران شدت اختیار کر گیا
دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 117.8 ملین کی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے، جس میں لبنان بین الاقوامی ناکامی کا ایک واضح عکس بن کر سامنے آیا ہے جہاں دس لاکھ سے زائد انسان انسانی ہمدردی کے بڑھتے ہوئے خلا میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
This brief synthesizes verified UNHCR data alongside regional reporting that adopts a critical tone toward international institutions and specific military actions in Lebanon.

"2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں 117.8 ملین افراد جنگ، تشدد اور ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے گھروں سے زبردستی بے دخل کر دیے گئے۔"
تفصیلی جائزہ
117.8 ملین بے گھر افراد کی اتنی بڑی تعداد دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کی ناکامی اور طویل تنازعات کو حل کرنے میں کثیر الجہتی اداروں کی بے بسی کا اشارہ ہے۔ لبنان کے لیے یہ صرف ایک انسانی اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ڈھانچہ جاتی تباہی ہے۔ معاشی دیوالیہ پن کا شکار ملک اب اپنی پانچویں آبادی کو جنگ کے سائے میں پناہ دینے پر مجبور ہے۔
اگرچہ رپورٹ لبنان کے بحران کو اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے جوڑتی ہے، لیکن UNHCR کا وسیع تر ڈیٹا ایک عالمی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں 'حل نہ ہونے والے تنازعات' اب استثنا نہیں بلکہ ایک معمول بن چکے ہیں۔ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پورے خطے کے عدم استحکام کا خطرہ ہے کیونکہ پناہ گاہوں اور بنیادی سہولیات کی کمی سول نافرمانی اور طویل مدتی آبادیاتی تبدیلیوں کے لیے زمین ہموار کر رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
لبنان کی تاریخ بے گھری سے گہرا تعلق رکھتی ہے؛ 1948 کے 'نکبہ' (Nakba) کے بعد سے اس ملک نے فی کس آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین آبادی کی میزبانی کی ہے، جس میں زیادہ تر فلسطینی اور 2011 کے بعد شام کی خانہ جنگی سے آنے والے لاکھوں شامی شامل ہیں۔ 'پناہ گزینوں پر پناہ گزینوں' کے اس بوجھ نے لبنان کے نازک فرقہ وارانہ توازن اور بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔
عالمی سطح پر بے گھر افراد کی تعداد ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تیزی سے بڑھ رہی ہے، 2022 میں یوکرین پر حملے اور سوڈان اور میانمار کے بحرانوں کے بعد یہ تعداد 100 ملین سے تجاوز کر گئی تھی۔ 2025 تک 117.8 ملین تک پہنچنا عالمی سفارت کاری کی ناکامی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے جو سیاسی تنازعات کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی ردعمل شدید تشویش اور نظام کی تھکن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں موجودہ صورتحال کو ایک 'بریکنگ پوائنٹ' قرار دیا گیا ہے۔ اس کا لہجہ عالمی پناہ گاہوں کے حل کی کمی اور بین الاقوامی بے حسی کے مہلک نتائج پر سخت تنقید کرتا ہے، جس میں لبنانی بحران کو ایک بہت بڑے عالمی سانحے کے اہم مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •UNHCR کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں 117.8 ملین افراد زبردستی بے گھر کیے گئے۔
- •جاری فوجی تنازعے اور علاقائی حملوں کی وجہ سے لبنان کے اندر بے گھر ہونے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
- •اس عالمی ریکارڈ کی بنیادی وجوہات جنگ، منظم تشدد اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم کو قرار دیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔