ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy11 جون، 2026Fact Confidence: 90%

ڈالر کی تھکاوٹ؛ سونا US Treasuries کو پیچھے چھوڑ کر عالمی ریزرو کا بادشاہ بن گیا

امریکی مالیاتی بالادستی کی بنیادیں کمزور ہونے کے ساتھ ہی، دنیا بھر کے مرکزی بینک سونے کی قدیم سیکیورٹی کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

AI Editor's Analysis
SensationalizedAnti-Western NarrativeFact-Based

This brief is tagged as 'Sensationalized' and 'Anti-Western Narrative' because it uses dramatic language such as 'cracking hegemony' and 'weaponization' to frame a statistical shift in global reserves. While the underlying data regarding gold purchases is fact-based and corroborated by the source, the narrative structure emphasizes a geopolitical decline of the United States.

ڈالر کی تھکاوٹ؛ سونا US Treasuries کو پیچھے چھوڑ کر عالمی ریزرو کا بادشاہ بن گیا
""دنیا ابھی ڈالر کو مکمل طور پر نہیں چھوڑ رہی – لیکن متبادل کی تلاش تیز ہو رہی ہے۔""
Al Jazeera Report (On the accelerating shift in global financial reserves away from the greenback.)

تفصیلی جائزہ

یہ تبدیلی ڈالر کے مبینہ طور پر 'ہتھیار' کے طور پر استعمال (Weaponization) اور امریکی مالیاتی پالیسی کے عدم استحکام کا براہ راست ردعمل ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کر کے، خاص طور پر BRICS ممالک، اپنے آپ کو US-led پابندیوں اور بھاری قومی قرضوں کے افراط زر کے دباؤ سے بچا رہے ہیں۔ جہاں کچھ تجزیہ کار اسے صدر Donald Trump کی ٹیرف پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال کے خلاف ایک عارضی قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں دیگر اسے اس 'غیر معمولی مراعات' کا خاتمہ سمجھتے ہیں جو US کئی دہائیوں سے حاصل کر رہا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ، خاص طور پر ایران تنازع نے، غیر جانبدار اثاثوں کی طرف اس منتقلی میں تیزی پیدا کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگرچہ China خلا کو پر کرنے کے لیے Yuan کو جارحانہ طور پر فروغ دے رہا ہے، لیکن سونے میں کسی دوسرے فریق کا خطرہ (Counterparty risk) نہ ہونا اسے ان ریاستوں کے لیے پسندیدہ پناہ گاہ بناتا ہے جو مغربی مالیاتی نظام کو بائی پاس کرنا چاہتی ہیں۔

پس منظر اور تاریخ

1944 کے Bretton Woods Agreement کے بعد سے، US Dollar دنیا کی بنیادی ریزرو کرنسی کے طور پر کام کر رہا ہے، جسے شروع میں سونے کی پشت پناہی حاصل تھی اور بعد میں 1971 میں صدر Richard Nixon کی جانب سے سونے کی تبدیلی کو ختم کرنے کے بعد امریکی حکومت کے بھروسے پر منحصر ہو گیا۔ اس نظام نے US کو عالمی سطح پر اپنی کرنسی برقرار رکھتے ہوئے بڑے خسارے چلانے کی اجازت دی، جس سے اس نے مؤثر طریقے سے اپنا افراط زر باقی دنیا کو منتقل کیا۔

2008 کے مالیاتی بحران اور اس کے بعد ایک دہائی تک Quantitative easing نے امریکی قرضوں پر اعتماد کو کم کرنا شروع کیا۔ 2022 میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب مغربی طاقتوں نے روسی مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کر دیے؛ اس نے غیر وابستہ ممالک کو ثابت کر دیا کہ ڈالر کے ریزرو کو راتوں رات ضبط کیا جا سکتا ہے، جس نے سونے کو—جو کہ ایک ایسی جسمانی شے ہے جس کا کوئی 'کل سوئچ' نہیں ہے—خود مختار ریاستوں کے لیے حتمی انشورنس پالیسی بنا دیا۔

عوامی ردعمل

مجموعی صورتحال نپے تلے خدشات پر مبنی ہے کیونکہ امریکہ کی بلا مقابلہ مالیاتی برتری کا دور ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ مالیاتی مارکیٹیں اور ادارے اب ایک ملٹی پولر (Multipolar) مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کو تسلیم کر رہے ہیں، جو پابندیوں سے محفوظ معیشتیں بنانے کی عالمی ضرورت کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اہم حقائق

  • عالمی ریزرو ہولڈنگز میں سونا اب 27 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس نے باضابطہ طور پر US Treasuries کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا ریزرو اثاثہ بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
  • بڑھتے ہوئے امریکی قرضوں اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے خلاف تحفظ کے لیے مرکزی بینک ریکارڈ رفتار سے سونا (Bullion) خرید رہے ہیں۔
  • ریزرو میں تبدیلی کے باوجود، بین الاقوامی تجارت، مالیات اور فارن ایکسچینج میں US Dollar کی حکمرانی اب بھی برقرار ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Washington DC📍 Beijing📍 Tehran

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔