UK CMA نے Google کو پبلشرز کے لیے AI مواد کے استعمال پر 'کِل سوئچ' دینے پر مجبور کر دیا
تصور کریں ایک ایسی دنیا کا جہاں انسانی علم کے رکھوالے بالآخر اس بات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گے کہ ان کے الفاظ کو مصنوعی ذہانت کے بڑے ادارے کیسے استعمال کرتے ہیں۔
The reporting accurately synthesizes information from high-trust regulatory and media sources, though the narrative framing employs dramatized language to highlight the conflict between publishers and tech giants.

""دنیا میں پہلی بار، پبلشرز کے پاس اب ایسے مؤثر ٹولز ہوں گے جو ان کے مواد کو سرچ میں AI فیچرز، جیسے کہ AI Overviews، کو چلانے کے لیے استعمال ہونے سے روک سکیں گے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ روایتی مواد تخلیق کرنے والوں اور تخلیقی AI کے معماروں کے درمیان طاقت کے توازن میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔ پبلشرز میں بڑھتے ہوئے اس خوف کو دور کرنے کے لیے کہ AI کے خلاصے صارفین کو اصل ویب سائٹ پر بھیجے بغیر ہی کافی معلومات فراہم کر دیتے ہیں، CMA نے دنیا کا پہلا آپٹ آؤٹ ٹول لازمی قرار دیا ہے۔ یہ قدم Google کو اس پوزیشن پر لاتا ہے جہاں اسے اس ڈیٹا کے لیے زیادہ منصفانہ مذاکرات کرنے ہوں گے جو اس کے جدید ترین فیچرز کو چلاتا ہے، جو کہ آٹومیشن کے دور میں ڈیجیٹل کاپی رائٹ کے لیے ایک عالمی مثال بن سکتا ہے۔
اگرچہ CMA کا دعویٰ ہے کہ یہ قوانین ایک منصفانہ ڈیل کو یقینی بنائیں گے، لیکن ٹریفک پر اس کے عملی اثرات اب بھی کشیدگی کا باعث ہیں۔ The Verge کے مطابق، آپٹ آؤٹ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ویب سائٹس تخلیقی AI فیچرز سے تمام ٹریفک اور امپریشنز کھو دیں گی، جس سے پبلشرز کے لیے ایک 'Catch-22' صورتحال پیدا ہو جائے گی کہ وہ اپنی پہچان بھی چاہتے ہیں لیکن اپنی دانشورانہ ملکیت کا تحفظ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ Google کا موقف ہے کہ یہ کنٹرولز عام سرچ رینکنگ پر اثر انداز نہیں ہوں گے، لیکن AI کے بڑھتے ہوئے ماحول میں اس کے طویل مدتی اثرات اب بھی بحث کا موضوع ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے، Google اور پبلشرز کے درمیان تعلقات سرچ انڈیکسنگ الگورتھم پر ایک دوسرے کے تعاون لیکن تناؤ پر مبنی انحصار سے عبارت رہے ہیں۔ Large Language Models (LLMs) کی آمد نے اس توازن کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے؛ لنکس کی انڈیکسنگ کے بجائے، Google نے پبلشرز کا ڈیٹا ایسے ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا جو آزادانہ طور پر جوابات تیار کر سکیں۔ اس سے 'زیرو کلک' سرچز میں اضافہ ہوا، جہاں صارفین کو براہ راست رزلٹ پیج پر جواب مل جاتے ہیں اور وہ کبھی اصل ویب سائٹ پر نہیں جاتے، جس سے تخلیق کار اشتہارات کی آمدنی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
ماضی کی قانونی لڑائیاں، جیسے کہ یورپی یونین اور آسٹریلیا میں 'لنک ٹیکس' اور اسنیپٹ ادائیگیوں کے حوالے سے، اس ریگولیٹری مداخلت کی بنیاد بنیں۔ CMA کا موجودہ اقدام اشتہارات اور سرچ میں Google کی اجارہ داری کی برسوں سے جاری تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ یہ کسی ریگولیٹری ادارے کی جانب سے AI 'فائن ٹیوننگ' کو ڈیٹا کے ایک الگ استعمال کے طور پر درجہ بندی کرنے کی پہلی بڑی کوشش ہے جس کے لیے تخلیق کاروں سے مخصوص رضامندی کی ضرورت ہے، جو کہ ابتدائی انٹرنیٹ دور کے وسیع 'منصفانہ استعمال' (fair use) کی اجازتوں سے آگے بڑھنے کی کوشش ہے۔
عوامی ردعمل
پبلشنگ انڈسٹری کی جانب سے ردعمل زیادہ تر محتاط امید پر مبنی ہے، جو اسے کھیل کے میدان کے برابر ہونے کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ ریگولیٹرز اسے منصفانہ مقابلے اور صارفین کے انتخاب کی فتح قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ڈیجیٹل تخلیق کاروں میں بے چینی کی ایک لہر بھی موجود ہے۔ پبلشرز AI ٹریننگ کے لیے 'کِل سوئچ' ملنے پر مطمئن ہیں، پھر بھی انہیں خوف ہے کہ اس حق کا استعمال مستقبل میں انہیں ڈیجیٹل گمنامی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اہم حقائق
- •UK Competition and Markets Authority (CMA) نے Google پر قانونی طور پر نافذ العمل طرزِ عمل کی شرائط عائد کر دی ہیں، جن کا اطلاق 3 جون 2024 سے ہوگا۔
- •ویب سائٹ کے مالکان اب Google کے AI Overviews سے باہر نکلنے اور اپنے مواد کو تخلیقی AI ماڈلز کی 'فائن ٹیوننگ' کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- •Google اپنے Search Console میں ایک نیا ٹوگل متعارف کروا رہا ہے تاکہ پبلشرز اپنی عام سرچ رینکنگ پر اثر پڑے بغیر AI سرچ ٹولز میں اپنی شرکت کا انتظام کر سکیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔