خلیج کی جنگ میں شدت، پاکستان سے سرمائے کا انخلا شروع
ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تنازع نے علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان ایک مالیاتی بحران کی زد میں آ گیا ہے۔ خلیجی ممالک اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور پاکستان بے بسی سے اس صورتحال کو دیکھ رہا ہے۔
While the financial figures align with the provided reporting, the brief employs highly evocative and dramatic language such as 'incinerates' and 'frantic flight' to characterize regional economic shifts.

"28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غیر یقینی صورتحال روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ہمیں ہر اس چیز کے لیے تیار رہنا چاہیے جو ہماری معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3.5 ارب ڈالر کی اچانک واپسی اور پھر سعودی عرب کی مدد نے پاکستان کی ریزرو حکمت عملی کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی علاقائی سلامتی کو ترجیح دے رہے ہیں اور پاکستان مکمل طور پر ریاض کی مالی مدد پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے۔
معاشی اشارے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ 11.5 فیصد کی بلند شرح سود کے باوجود خلیجی ممالک کی عدم دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ خطے کے خطرات منافع سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر یہ جنگ جاری رہی تو سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر (remittances) پر بھی برا اثر پڑے گا جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے پاکستان اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو خلیجی اتحادیوں، خاص طور پر Saudi Arabia اور UAE کے 'سیف ڈپازٹس' کے ذریعے پورا کرتا آیا ہے۔ IMF کے پروگراموں کے باوجود معیشت کی بنیادی کمزوریاں دور نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے روپیہ اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر مشرق وسطیٰ کی سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں۔
28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی یہ حالیہ کشیدگی ماضی کے تیل کے بحرانوں سے مختلف ہے۔ اس بار براہ راست جنگی خطرات منامہ اور دبئی جیسے مالیاتی مراکز تک پہنچ چکے ہیں۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے سرمائے کی واپسی ظاہر کرتی ہے کہ اب وہ اپنے ڈپازٹس کو صرف امداد نہیں بلکہ مائع اثاثے (liquid assets) سمجھتے ہیں جنہیں محفوظ بنانا ضروری ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی تاثر شدید تشویش اور بے چینی کا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین اب 'پرامید' ہونے کے بجائے 'بچاؤ' کی حکمت عملی پر زور دے رہے ہیں۔ روایتی اتحادیوں کی جانب سے اپنی سیکیورٹی کو ترجیح دینے سے پاکستان خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔
اہم حقائق
- •بحرین نے 2026-27 کے مالی سال کے پہلے 10 دنوں میں پاکستانی بانڈز سے مجموعی طور پر 30 ملین ڈالر نکال لیے، جس میں 21 ملین ڈالر T-bills اور 9 ملین ڈالر Pakistan Investment Bonds سے نکالے گئے۔
- •UAE نے State Bank of Pakistan کے اکاؤنٹ میں موجود 3.5 ارب ڈالر نکال لیے، لیکن ادائیگیوں کے توازن کا بحران (balance-of-payments crisis) روکنے کے لیے Saudi Arabia نے فوری طور پر یہ رقم جمع کرا دی۔
- •State Bank کے ڈیٹا کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے 10 دنوں میں خلیجی ممالک سے کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئی، حالانکہ ٹریژری بلز پر 11.5 فیصد تک منافع دیا جا رہا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔