گلمرگ گونڈولا میں تکنیکی خرابی؛ 300 پھنسے ہوئے سیاحوں کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع
4,000 میٹر کی بلندی پر ایک میکانیکی خرابی نے کشمیر کی پرسکون سیر و تفریح کو ایک سنگین ریسکیو آپریشن میں بدل دیا، جس نے دنیا کے مشکل ترین پہاڑی علاقوں میں بھارت کے ہنگامی ردعمل کے ڈھانچے کا امتحان لیا۔
The report reflects a tension between sensationalist media framing of 'panic' and 'terror' versus pro-state narratives emphasizing administrative efficiency and the total control of the situation by government and military forces.
""حکومت گلمرگ گونڈولا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جہاں کیبل کار سروس کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ تمام کیبن محفوظ ہیں اور پھنسے ہوئے سیاحوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے... صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ کشمیر کے سیاحتی ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کی معیشت کا بنیادی انجن ہے لیکن تکنیکی اور ماحولیاتی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ Indian Army اور High Altitude Warfare School (HAWS) کی فوری نقل و حرکت سویلین ٹورازم اور فوجی تیاریوں کے باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے۔
جبکہ کچھ ذرائع سیاحوں میں پھیلی 'گھبراہٹ اور بے چینی' پر زور دے رہے ہیں، وہیں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیانات 'صورتحال قابو میں ہونے' پر مرکوز ہیں۔ یہ تضاد انفراسٹرکچر کے خطرات کے باوجود خطے کی ساکھ کو مستحکم رکھنے کی حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
گلمرگ گونڈولا، جو دنیا کی بلند ترین کیبل کاروں میں سے ایک ہے، 1990 کی دہائی کے آخر میں اپنے آغاز سے ہی جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کا سنگِ میل رہی ہے۔ فرانسیسی کمپنی Pomagalski کے تعاون سے تیار کردہ اس منصوبے کا مقصد خطے کی معیشت کو بحال کرنا تھا۔
اپنی شہرت کے باوجود، گزشتہ دہائی میں کئی واقعات کے بعد سروس کے حفاظتی پروٹوکولز پر سوالات اٹھے ہیں، بشمول 2017 کا حادثہ جب ایک درخت گرنے سے کیبل متاثر ہوئی تھی۔ ان واقعات کی وجہ سے ہر سال افروٹ چوٹی کی سیر کرنے والے لاکھوں سیاحوں کی حفاظت کے لیے جدید نظام اور آڈٹ کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
عوامی اور سرکاری جذبات ریلیف اور دفاعی انتظام کا مجموعہ ہیں، جہاں حکومتی بیانیہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے 'کثیر ایجنسیوں' کے مربوط ردعمل کی تعریف پر مبنی ہے۔ تاہم، بار بار ہونے والی تکنیکی خرابیاں طویل مدتی دیکھ بھال کے معیار پر ایک خاموش بحث کو جنم دے رہی ہیں۔
اہم حقائق
- •25 مئی 2026 کو گلمرگ گونڈولا سروس کے پہلے مرحلے میں تکنیکی خرابی کے باعث تقریباً 300 سیاح کئی گھنٹوں تک فضا میں پھنسے رہے۔
- •ریسکیو آپریشن میں Indian Army، High Altitude Warfare School (HAWS)، جموں و کشمیر پولیس اور State Disaster Response Force (SDRF) کے اثاثوں کو بروئے کار لایا گیا۔
- •یہ خرابی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:00 بجے گلمرگ باؤل اور کونگ ڈوری اسٹیشن کے درمیان تقریباً 2,600 میٹر کی بلندی پر پیش آئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔