یمن میں کشیدگی: حوثی میزائل حملے نے سعودی عرب کے ساتھ چار سالہ جنگ بندی ختم کر دی
میزائل حملوں اور رن وے پر بمباری نے چار سالہ نازک جنگ بندی کو تباہ کر دیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کے اس طویل ترین پراکسی تنازعے میں دوبارہ باقاعدہ جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
This brief synthesizes conflicting official statements from the Houthi movement and the Aden-based Yemeni government. The tags reflect the report's reliance on state-sponsored military claims regarding the breakdown of the truce, which have not yet been independently verified by neutral international observers.

"ایرانی حکومت کی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا نے یمنی قومی طیاروں کو دارالحکومت صنعاء کے ایئرپورٹ پر اترنے سے روکا، جبکہ ایک ایرانی طیارے کو یمنی حدود کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دینے پر اصرار کیا؛ جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا گیا۔"
تفصیلی جائزہ
کشیدگی میں کمی کے اس عمل کی ناکامی ریاض اور حوثی تحریک کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کی مکمل تباہی کو ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع واضح طور پر صنعاء حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیتے ہیں، عدن میں مقیم یمنی حکومت نے غیر معمولی طور پر اس آپریشن کی خود ذمہ داری لی ہے، اسے ایرانی مداخلت روکنے کے لیے ایک خود مختار اقدام قرار دیا ہے۔ یہ حوثیوں اور تہران کے درمیان علاقائی اتحاد کی مضبوطی کا اشارہ ہے، خاص طور پر ایران میں ایک جنازے میں حوثی حکام کی ہائی پروفائل شرکت کے بعد۔
اسٹرٹیجک لحاظ سے صورتحال سنگین ہے: ابہا ایئرپورٹ کو نشانہ بنا کر حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سعودی عرب کے اندرونی علاقے اب دوبارہ ان کے نشانے پر ہیں، اور وہ مملکت کے معاشی اور ہوا بازی کے شعبوں کو یمنی تنازعے کے لیے یرغمال بنا رہے ہیں۔ ایرانی طیارے پر ہونے والا تنازعہ—جو آخر کار حدیدہ (Hudaydah) کی طرف مڑ گیا—یمنی فضائی حدود پر کنٹرول کی اس جاری جنگ کو اجاگر کرتا ہے، جو سعودی قیادت والے اتحاد کے لیے ایک دہائی سے اہم پوائنٹ رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
یمنی خانہ جنگی 2014 کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب شمالی زیدی شیعہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے حوثی باغیوں نے صنعاء پر قبضہ کر کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بے دخل کر دیا۔ اس کے جواب میں 2015 میں سعودی قیادت میں ایک اتحاد نے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کی، جو حوثیوں کو اپنی جنوبی سرحد پر ایرانی پراکسی سمجھتے تھے۔ آنے والی دہائی میں یہ تنازعہ دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک بن گیا، جس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد امداد کے منتظر ہیں۔
چار سال قبل قائم ہونے والی غیر رسمی جنگ بندی نے سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی کر دی تھی، جس سے امن مذاکرات اور صنعاء سے محدود تجارتی پروازوں کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ تاہم، بنیادی مسائل—بشمول خود مختاری، ایران کا علاقائی اثر و رسوخ اور عدن کی حکومت کی قانونی حیثیت—غیر حل شدہ رہے۔ حالیہ کشیدگی سے پتہ چلتا ہے کہ 'نہ جنگ، نہ امن' والی موجودہ صورتحال اب فریقین کے لیے برقرار رکھنا ممکن نہیں رہی۔
عوامی ردعمل
فضا میں شدید خوف اور اضطراب پایا جاتا ہے، اور اس حملے کو گذشتہ چار سالوں سے جاری خاموش تنازعے میں سب سے بڑی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کار اسے کشیدگی میں کمی کے دور کا حتمی خاتمہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حوثی قیادت نے انتباہ دیا ہے کہ ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور انہیں سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔
اہم حقائق
- •حوثی افواج نے پیر کو سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر ابہا (Abha) کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد میزائل فائر کیے۔
- •بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تاکہ ایرانی طیارے کو اترنے سے روکا جا سکے۔
- •سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے فضائی دفاعی نظام نے حوثی میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔