امریکہ کے امیگریشن ڈیٹینشن سینٹرز میں انسانی حقوق کا مقدمہ اور بھوک ہڑتال؛ حالات کو چیلنج کر دیا گیا
ریگستانی خیموں کی نائیلون کی دیواروں اور شہر کے قید خانوں کے مضبوط شیشوں کے پیچھے، ہزاروں افراد اپنی زندگی کی آخری توانائی اس وقار کے مطالبے پر لگا رہے ہیں جو قانون ابھی تک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
The report correctly identifies a conflict between legal allegations of human rights abuses and official government denials; tags reflect the high volume of attributed, unverified claims and the emotionally charged nature of the source reporting.

"ICE کے ڈیٹینشن معیار اکثر امریکی جیلوں سے بہتر ہیں جہاں اصل امریکی شہری رکھے جاتے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
Camp East Montana کی صورتحال ڈیٹینشن کے 'ٹینٹ سٹی' ماڈل کے خلاف ایک بڑی قانونی پیش رفت ہے۔ جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مدعی اس ریگستانی کیمپ کو 'گندہ' اور طبی غفلت کا گڑھ قرار دے رہے ہیں، وہیں Department of Homeland Security ان الزامات کو 'مکمل طور پر غلط' قرار دیتے ہوئے قید کے دوران ہلاکتوں میں اضافے کی تردید کرتا ہے۔ یہ تصادم فوجی اڈوں پر وفاقی ڈیٹینشن کی تیزی سے توسیع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نگرانی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
نیو جرسی میں یہ تنازع سڑکوں تک پہنچ چکا ہے، جو امیگریشن قوانین کے نفاذ پر ایک گہری سماجی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریاستی پولیس نے ICE مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ DHS سیکرٹری نے گورنر Mikie Sherrill کی 'امن و امان بحال کرنے' پر تعریف کی۔ احتجاج کو روکنے میں وفاقی اور ریاستی تعاون اور اندرونی بھوک ہڑتال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقامی حکومتیں اب امیگریشن کے اس متنازع معاملے کو کیسے نمٹا رہی ہیں، جہاں اکثر انسانی حقوق کے بجائے سکیورٹی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
امیگریشن ڈیٹینشن کے لیے عارضی 'ٹینٹ سٹیز' کا استعمال پچھلی دہائی میں امریکہ-میکسیکو سرحد پر آنے والے مختلف سیلابوں سے جڑا ہے، خاص طور پر 2018 میں Tornillo جیسی سہولیات کی توسیع۔ اگست 2025 میں Fort Bliss میں قائم ہونے والا Camp East Montana بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں فوجی تنصیبات کو آبادی سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس پر ہمیشہ سے ناقص حالاتِ زندگی کی وجہ سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔
نیوارک میں بھوک ہڑتال جیل کے نظام کے اندر تارکین وطن کی مزاحمت کی ایک طویل تاریخ کا حصہ ہے۔ برسوں سے، نیو جرسی کی سہولیات میں قیدی اپنی آواز اٹھانے کے لیے اپنے جسموں کا استعمال کرتے آئے ہیں تاکہ ان 'سول' ڈیٹینشن حالات کے خلاف احتجاج کر سکیں جو اکثر مجرمانہ قید سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ یہ سرگرمی نجی ڈیٹینشن معاہدوں کو ختم کرنے کی ریاستی کوششوں کے بعد آئی ہے، جسے وفاقی حکومت کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی جذبات شدید طور پر منقسم ہیں، جس میں جسمانی جھڑپیں اور تند و تیز بیان بازی نمایاں ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار مبینہ 'گھناؤنے' سلوک پر شدید اخلاقی غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور بھوک ہڑتالیوں کو بہادر قرار دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، وفاقی حکام 'امن و امان' کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بدسلوکی کی رپورٹس کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •ICE کے خلاف 30 مئی 2026 کو ایک کلاس ایکشن لاسوٹ (class-action lawsuit) دائر کیا گیا، جس میں Camp East Montana میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے، جو اس وقت امریکہ میں امیگریشن کی سب سے بڑی سہولت ہے۔
- •نیوارک، نیو جرسی میں Delaney Hall نامی سہولت میں قید تارکین وطن 30 مئی تک بھوک اور کام کی ہڑتال کے نویں دن میں داخل ہو چکے ہیں۔
- •ٹیکساس کے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ مارچ 2026 کے اوائل میں خسرہ (measles) کی وباء کے دوران Camp East Montana کے 14 قیدی متاثر ہوئے تھے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔