بھارت کا امریکی کرسچن گروپ پر غیر قانونی فنڈنگ اور انتہا پسندی کا الزام
علاقائی سیکیورٹی پر نظر رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے بھارت میں غیر ملکی فنڈز پر سخت پابندیاں اہم خبر ہے۔
بھارت کی بڑی تحقیقاتی ایجنسی نے ایک امریکی مذہبی تنظیم کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جس پر ڈیبٹ کارڈز کے خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں روپے منتقل کرنے اور انتہا پسندی پھیلانے کا الزام ہے۔
This report relies exclusively on a single Indian media outlet citing government agency filings (CBI and ED). The tags reflect the state-originated nature of the allegations and the lack of independent verification or response from the accused parties.
"گزشتہ چند سالوں میں بھارت میں ایسے 1,000 سے زائد ڈیبٹ کارڈز تقسیم کیے گئے... تاکہ شک سے بچا جا سکے۔"
تفصیلی جائزہ
NDTV کے مطابق بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فنڈز لوگوں کی 'ذہن سازی' اور انتہا پسندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ یہ قدم بھارت کی جانب سے غیر ملکی تنظیموں (NGOs) کو کنٹرول کرنے کے قانون FCRA کے سخت استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ یاد رہے کہ یہ الزامات ایجنسی کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ TTI یا ملزمان نے اب تک ان الزامات کا کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا۔ عیسائی مشنری کام کو 'بائیں بازو کی انتہا پسندی' سے جوڑنا ایک نیا اور حساس رخ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
بھارت میں غیر ملکی فنڈنگ کا قانون FCRA 1976 میں بنایا گیا تھا۔ پچھلی دہائی میں موجودہ حکومت نے اس قانون کو مزید سخت کر کے ہزاروں تنظیموں بشمول Amnesty International کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔
بھارت طویل عرصے سے 'نکسل واری' انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ایک امریکی مذہبی گروپ کو اس مسلح بغاوت سے جوڑ کر حکومت مالیاتی قوانین کو مزید سخت کرنے کا جواز پیدا کر رہی ہے۔
عوامی ردعمل
رپورٹنگ کا انداز سخت اور سیکیورٹی پر مرکوز ہے، جس میں تنظیم کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے خاتمے کو جرم چھپانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •CBI نے امریکی تنظیم The Timothy Initiative (TTI) کے خلاف FIR درج کی ہے جس پر امریکی ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے 92.55 کروڑ بھارتی روپے نکالنے کا الزام ہے۔
- •بھارتی حکام نے بنگلور ایئرپورٹ پر ایک اہم کارندے سے 24 غیر ملکی ڈیبٹ کارڈز قبضے میں لیے، جو گرفتاری سے بچنے کے لیے فرضی ناموں پر جاری کیے گئے تھے۔
- •Enforcement Directorate کے مطابق حکومتی چھاپوں کے بعد TTI کا عالمی ڈیٹا پورٹل بھارت میں بند کر دیا گیا اور لیپ ٹاپ سے ڈیٹا دور بیٹھ کر ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔