ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
India8 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

بھارت میں اعلیٰ تعلیم کی شرحِ ترقی سست پڑ گئی، کروڑوں نوجوان تعلیم سے محروم

بھارت کا علمی انجن سست ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کی ترقی کی رفتار انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے 70 فیصد نوجوان تعلیمی اداروں کے دروازوں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedCritical Tone

This brief synthesizes official data from the Ministry of Education's AISHE report; however, the framing prioritizes the marginal growth rate and social disparities to provide a critical perspective on India's educational policy.

"اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کالج جانے کی عمر کے ہر 10 میں سے تقریباً سات بھارتی نوجوان اب بھی اعلیٰ تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔"
All India Survey on Higher Education (AISHE) Report (The report's findings on the Gross Enrolment Ratio (GER) and the untapped demographic potential of India.)

تفصیلی جائزہ

محض 0.8 فیصد کی معمولی شرحِ ترقی بھارت کی افرادی قوت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ حکومت 2014 سے داخلوں میں 31.5 فیصد اضافے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن موجودہ جمود بتاتا ہے کہ موجودہ انفراسٹرکچر اور معاشی مراعات نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کھپانے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ ایک ایسی قوم کے لیے جو خود کو عالمی علمی معیشت کے طور پر پیش کر رہی ہے، یہ حقیقت کہ 70 فیصد کالج جانے والے شہری نظام سے باہر ہیں، ایک بڑا تزویراتی خسارہ ہے جو طویل مدتی پیداواری صلاحیت اور جدت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

تعلیمی شعبے میں سماجی شمولیت کے رجحانات غیر مساوی ہیں۔ جہاں Scheduled Caste (SC) کے داخلوں میں تھوڑی بہتری آئی ہے، وہیں Scheduled Tribe (ST) کی شرکت میں کمی نچلی سطح پر پالیسیوں کی ناکامی کا اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ، 76.8 فیصد طلباء کا صرف انڈر گریجویٹ کورسز میں ہونا اور ریسرچ یا پوسٹ گریجویٹ تعلیم میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے ماہرین کے بجائے عام ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

آزادی کے بعد سے بھارت کا اعلیٰ تعلیمی نظام ایک نوآبادیاتی ڈھانچے سے بدل کر 1,000 سے زائد یونیورسٹیوں کے ایک وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 2014 کے بعد کے عشرے میں تیزی سے پھیلاؤ دیکھا گیا، جس میں Gross Enrolment Ratio (GER) 23.7 فیصد سے بڑھ کر 30.0 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ ترقی نجی شعبے کی آمد اور دیہی علاقوں میں تعلیمی صلاحیت بڑھانے کے حکومتی اقدامات کی بدولت ممکن ہوئی۔

National Education Policy (NEP) 2020 میں 2035 تک 50 فیصد GER کا پرجوش ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ سست روی ان ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کو اجاگر کرتی ہے جو تاریخی طور پر نظام کو درپیش رہی ہیں، جیسے کہ بڑھتی ہوئی فیسیں، معیاری اساتذہ کی کمی، اور تعلیمی نصاب اور جدید عالمی جاب مارکیٹ کے درمیان بڑھتا ہوا فرق۔

عوامی ردعمل

تازہ ترین AISHE رپورٹ پر ادارتی ردعمل محتاط تشویش کا حامل ہے، جسے پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ریکارڈ کل داخلوں کا اعتراف کیا گیا ہے، لیکن بحث کا مرکز برسوں کی 'سست ترین ترقی' اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کے نوجوانوں کی اکثریت اب بھی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے۔ Scheduled Tribe (ST) کے داخلوں میں کمی کو خاص طور پر سماجی ترقی کے اہداف کے لیے ایک دھچکا قرار دیا گیا ہے۔

اہم حقائق

  • 2023-24 میں اعلیٰ تعلیم میں کل داخلوں کی تعداد 4.5 کروڑ تک پہنچ گئی، جو صرف 0.8 فیصد کی سالانہ ترقی کو ظاہر کرتی ہے یعنی تقریباً 3.7 لاکھ نئے طلباء۔
  • 18 سے 23 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے Gross Enrolment Ratio (GER) بڑھ کر 30.0 فیصد ہو گیا، لیکن Scheduled Tribes (ST) کی شمولیت 23.5 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گئی۔
  • ملک میں انڈر گریجویٹ پروگرامز کا غلبہ برقرار ہے، جو تمام طالب علموں کے داخلوں کا 76.8 فیصد ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 New Delhi

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

India Higher Education Growth Stalls as Millions Remain Sidelined - Haroof News | حروف