US کی ٹیرف دھمکی، بھارتی وزیر اعظم کی ایرانی اور روسی صدور سے ملاقات
یہ سفارتی تبدیلی علاقائی سیکیورٹی اور پاکستان کے تجارتی راستوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
نئی دہلی میں BRICS سمٹ کے موقع پر بھارتی، ایرانی اور روسی سربراہان کی ایک تصویر نے Washington کی ٹیرف دھمکیوں کو ایک واضح چیلنج دیا ہے۔
The brief accurately synthesizes divergent focus points from the provided sources—maritime security from Independent Urdu and geopolitical tariff friction from Times of India—while maintaining a neutral tone and providing analytical context regarding India's strategic balancing.

""رکن ممالک کے درمیان تجارت میں اپنی قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھانا سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔""
تفصیلی جائزہ
بھارت ایک طرف US کے ساتھ تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور دوسری طرف ایران اور روس سے تعلقات بڑھا کر توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اہم ہے کیونکہ بھارت بحیرہ عرب میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔
مختلف رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ BRICS کے اندر تناؤ موجود ہے؛ ایران ڈالر سے پیچھا چھڑانے کے حق میں ہے جبکہ بھارت ڈونلڈ ٹرمپ کی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کی وجہ سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
پس منظر اور تاریخ
BRICS کا قیام عالمی بینک اور IMF جیسے مغربی اداروں کے متبادل کے طور پر عمل میں آیا تھا، جو اب ایک مضبوط جغرافیائی سیاسی اتحاد بن چکا ہے۔
بھارت اور ایران کے تعلقات میں Chabahar Port کا منصوبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، لیکن US کے ساتھ دفاعی شراکت داری کی وجہ سے بھارت کو اکثر تہران کے ساتھ تعاون میں کمی کرنی پڑتی ہے۔
عوامی ردعمل
اس صورتحال پر عوامی اور ادارتی حلقوں میں جہاں US کی پابندیوں کا خدشہ پایا جاتا ہے، وہیں اسے عالمی نظام میں تبدیلی کی ایک علامتی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے BRICS سمٹ سے قبل نئی دہلی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔
- •امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے BRICS ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ڈالر کا متبادل لانے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔
- •بھارت اور ایران کے درمیان مذاکرات میں خاص طور پر سمندری سیکیورٹی اور بحری جہازوں کے عملے کی حفاظت پر توجہ دی گئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔