بھارت کا پاکستان اور چین کے نئے مشترکہ سرحدی کمیشن کو ماننے سے انکار
پاکستانیوں کے لیے یہ تنازع CPEC اور علاقائی امن پر نئے سفارتی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے بنائے گئے نئے کمیشن کو بھارت نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے، جس سے ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
This brief is derived from a single Indian news outlet reporting on official government statements; therefore, the claims regarding territorial legality are presented as disputed geopolitical positions rather than settled international facts.

"ایسے ڈرامے کرنے کے بجائے، ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے غیر قانونی اور زبردستی قبضے والے علاقوں کو فوری طور پر خالی کرے۔"
تفصیلی جائزہ
بھارتی اخبار 'دی ہندو' کے مطابق، بھارت اس کمیشن کو جموں، کشمیر اور لداخ پر 'غیر قانونی قبضے' کو جائز قرار دینے کی کوشش سمجھتا ہے۔
بھارت کا یہ دعویٰ کہ 1963 کا سرحدی معاہدہ 'غیر قانونی' ہے، براہ راست ان منصوبوں کو نشانہ بناتا ہے جو پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
اس کشیدگی کی بنیاد 1963 کے پاک-چین معاہدے میں ہے، جس کے تحت پاکستان نے سرحد طے کرنے کے لیے شکسگام ویلی چین کے حوالے کی تھی۔
بھارت نے کبھی اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا اور 2019 میں جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد اس کا موقف مزید سخت ہو گیا ہے۔
عوامی ردعمل
رپورٹ سے بھارتی حکومت کا سخت اور جارحانہ رویہ ظاہر ہوتا ہے، جہاں سفارتی ملاقات کو 'ڈرامہ' قرار دے کر علاقائی خودمختاری پر سخت موقف اپنایا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان اور چین نے 16 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں اپنے باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کا پہلا اجلاس منعقد کیا۔
- •بھارتی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر اس کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
- •یہ تنازع شکسگام ویلی اور ان علاقوں پر ہے جہاں CPEC کے منصوبے واقع ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔