بھارت کی سپریم کورٹ کی ادویات کے پیٹنٹ پر بڑی مداخلت، عدالتی تاخیر پر برہمی کا اظہار
سپریم کورٹ نے عدالتی نظام میں سستی اور تاخیر کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے کینسر کے ایک مریض کی موت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو 57 سماعتوں تک انصاف کا انتظار کرتا رہا۔ یہ کیس بین الاقوامی پیٹنٹ قوانین اور انسانی زندگی کے بنیادی حق کے درمیان جاری کشمکش کو بے نقاب کرتا ہے۔
While the core facts of the Supreme Court's intervention are corroborated by high-trust national outlets, the brief employs emotive framing and sensationalist language like 'stranglehold' and 'brutal friction' to emphasize the conflict between patent law and public health.

"دوا کی ناقابلِ برداشت قیمت نے اس کی صحت کے حق کو متاثر کیا، جو کہ آرٹیکل 21 کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔"
تفصیلی جائزہ
سپریم کورٹ کی یہ مداخلت عدالتی سستی کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن ہے جس سے پبلک ہیلتھ اور پیٹنٹ حقوق کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اصل تنازع حکومت کی اس ہچکچاہٹ پر ہے کہ وہ اپنے 'compulsory licensing' کے اختیار کو استعمال نہیں کر رہی، کیونکہ اس سے Novartis جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس اس معاملے میں اداروں کی سنجیدگی میں کمی کی نشاندہی کرتی ہیں؛ NDTV نے 57 التواؤں کو نچلی عدالت کی ناکامی قرار دیا ہے، جبکہ The Hindu کا فوکس سپریم کورٹ کے اس آئینی اختیار پر ہے کہ زندگی کے حق سے جڑے معاملات میں فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
پس منظر اور تاریخ
بھارت کا فارماسیوٹیکل پیٹنٹ کے ساتھ تعلق دہائیوں پرانی جدوجہد ہے۔ 1970 کے پیٹنٹ ایکٹ کے بعد بھارت 'دنیا کی فارمیسی' بن گیا تھا، لیکن 2005 میں WTO کے TRIPS معاہدے کی تعمیل کے لیے قوانین میں ترمیم کی گئی تاکہ مصنوعات کے پیٹنٹ کو تسلیم کیا جا سکے۔
ان حفاظتی اقدامات کے باوجود 'compulsory licenses' کا اجرا بہت کم ہوا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال 2012 میں Bayer کی کینسر دوا Nexavar کے لیے دی گئی اجازت تھی۔ حالیہ کیس ان حالات میں سامنے آیا ہے جہاں کینسر کے جدید علاج عام آدمی کی مالی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں۔
عوامی ردعمل
بڑے میڈیا ہاؤسز کی رپورٹس میں کیرالہ ہائی کورٹ کی تاخیر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے ایک اخلاقی المیہ قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک مریض انصاف اور سستی دوا کے انتظار میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
اہم حقائق
- •بھارت کی سپریم کورٹ نے کینسر کی دوا Ribociclib کی قیمتوں اور دستیابی سے متعلق ازخود نوٹس (suo motu) لیا ہے، کیونکہ اصل درخواست گزار قانونی کارروائی کے دوران ہی انتقال کر گئی تھی۔
- •کیرالہ ہائی کورٹ نے جنوری 2023 سے جولائی 2026 کے درمیان دوا کی قیمتوں سے متعلق اس کیس کو 57 بار ملتوی کیا۔
- •بھارتی قانون مرکزی حکومت کو 'compulsory licenses' جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کے تحت پیٹنٹ شدہ ادویات کو عام کمپنیاں تیار کر سکتی ہیں اگر وہ عوام کی پہنچ سے باہر ہوں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔