خاموش لہریں: بھارت دریائے چناب کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ پر پاکستان کے انتباہ کو نظر انداز کر رہا ہے
جبکہ دریائے چناب کے اہم پانی میں خطرناک اتار چڑھاؤ جاری ہے، نئی دہلی کی سوچ سمجھ کر اختیار کی گئی خاموشی Indus Waters Treaty کو سفارتی تباہی کے دہانے پر دھکیل رہی ہے۔
This report relies exclusively on Pakistani government claims and regional reporting from Dawn. The interpretation of India's non-responsiveness as 'hydro-hegemonic' reflects a specific geopolitical perspective that has not been corroborated by neutral international observers or the Indian government.
"میں نے دریائے چناب کے بہاؤ میں تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے بھارتی ہم منصب کو چار بار خط لکھا، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ سفارتی خلا اس تکنیکی تعاون کی گہری ناکامی کا اشارہ ہے جو تاریخی طور پر پاک بھارت شدید دشمنی کے دوران بھی برقرار رہا۔ بار بار کی پوچھ گچھ کو نظر انداز کر کے، بھارت ممکنہ طور پر پانی پر اپنی بالادستی (hydro-hegemony) ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور Indus Waters Treaty کی حدود کو پرکھ رہا ہے جبکہ پاکستان کو زراعت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ تنازع Permanent Indus Commission کی حدود کو اس وقت واضح کرتا ہے جب سیاسی اعتماد کم ترین سطح پر ہو۔ اگر یہ خاموشی برقرار رہتی ہے تو پاکستان اس معاملے کو World Bank میں لے جانے پر مجبور ہو سکتا ہے، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، جس سے یہ علاقائی بحران بین الاقوامی سطح پر پہنچ جائے گا۔
پس منظر اور تاریخ
1960 میں World Bank کے تعاون سے ہونے والا Indus Waters Treaty دنیا کے سب سے پائیدار پانی کے معاہدوں میں سے ایک ہے، جس نے پاک بھارت کے درمیان تین بڑی جنگوں کا سامنا کیا۔ یہ معاہدہ چھ دریاؤں کو تقسیم کرتا ہے، جس میں بھارت کو مشرقی دریاؤں (Sutlej، Beas، Ravi) اور پاکستان کو مغربی دریاؤں (Indus، Jhelum، Chenab) پر کنٹرول دیا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں، مغربی دریاؤں پر Kishenganga اور Ratle جیسے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے اس معاہدے پر غیر معمولی دباؤ آیا ہے۔ بھارت نے حال ہی میں دہائیوں پرانے اس معاہدے میں باضابطہ ترمیم کی کوشش کی ہے، اور دریائے چناب کے بہاؤ پر موجودہ خاموشی اسی کشمکش کی تازہ ترین کڑی ہے۔
عوامی ردعمل
پاکستان میں عوامی اور ادارتی ردعمل تشویش اور بڑھتی ہوئی مایوسی پر مبنی ہے، جہاں بہت سے لوگ بھارت کی خاموشی کو 'آبی جارحیت' کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے طویل مدتی خوراک کی عدم تحفظ اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان کے Indus Waters Commissioner نے دریائے چناب میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے حوالے سے اپنے بھارتی ہم منصب کو چار الگ الگ باضابطہ خطوط بھیجے ہیں۔
- •بھارتی حکومت نے تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے رپورٹ کیے گئے بہاؤ کے فرق پر کوئی باضابطہ جواب یا تکنیکی وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔
- •1960 کے Indus Waters Treaty کے تحت، دونوں ممالک کے لیے ڈیٹا کے تبادلے اور پانی کی تقسیم کے تنازعات کے حل کے لیے ایک مستقل کمیشن برقرار رکھنا لازمی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔