سندھ طاس معاہدے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسلام آباد کا 'غیر متنازعہ' آبی حقوق پر اصرار
جنوبی ایشیا میں پانی کی قلت جب ایک اسٹرٹیجک ہتھیار کی شکل اختیار کر رہی ہے، اسلام آباد نے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے، اور دریائے سندھ کو ایک ایسی شہ رگ قرار دیا ہے جس کا وہ بھارت کی طرف سے یکطرفہ رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف دفاع کرے گا۔
This brief reflects the official narrative of the Pakistani government and local media; the language used, such as 'jugular vein,' is characteristic of regional nationalist rhetoric and the claims regarding unilateral treaty violations by India are currently subjects of international legal dispute rather than settled fact.

"آج ہم کسی معاہدے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ کی بات کر رہے ہیں۔ اگر پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت عوامی حقوق کی بحالی اور بھرپور جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ سیمینار عالمی برادری کے لیے ایک نپا تلا سفارتی اشارہ ہے کہ پاکستان آبی تحفظ کو قومی بقا کا ایک ناقابلِ سمجھوتہ عنصر سمجھتا ہے۔ قانونی ماہرین اور وفاقی وزراء کو شامل کر کے، اسلام آباد اس بیانیے کو پانی کی تقسیم کے تکنیکی تنازع سے نکال کر ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی خطرے میں بدل رہا ہے۔ اگست 2023 سے بھارت کی جانب سے 'یکطرفہ معطلی' پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازعات کے حل کا دوطرفہ نظام عملی طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
طاقت کا توازن اب تیزی سے بھارت کی بالادستی اور پاکستان کی جغرافیائی کمزوری کے گرد گھوم رہا ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ آرٹیکل 9 کے تحت ایک مستقل قانونی ڈھال ہے، جبکہ اصل کشیدگی بھارت کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کے مبینہ اقدامات سے پیدا ہو رہی ہے۔ یہ تنازع اب صرف پانی کی مقدار کا نہیں رہا، بلکہ یہ سندھ طاس کی ماحولیات کو سنبھالنے کے خودمختار حق کا مسئلہ بن گیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
سندھ طاس معاہدہ (IWT) ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہوا تھا اور اس پر 1960 میں بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔ اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں سے ایک مانا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تین بڑی جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔ معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کو، جبکہ تین مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کو دیے گئے تھے۔
حالیہ برسوں میں، اس معاہدے کو اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جب بھارت نے کشن گنگا اور رتلے ڈیم جیسے بڑے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام شروع کیا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ڈیزائن معاہدے کی تکنیکی خلاف ورزی ہیں، جبکہ بھارت انہیں اپنا حق قرار دیتا ہے۔ 2023 کے آخر میں یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نئی دہلی نے پورے معاہدے میں ترمیم کرنے کا اشارہ دیا، جسے اسلام آباد عالمی قانون کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
عوامی ردعمل
رپورٹنگ کا مجموعی تاثر فوری قوم پرستی اور قانونی دفاع کا ہے۔ دریائے سندھ کو 'شہ رگ' کے طور پر پیش کرنے اور بھارتی اقدامات کو 24 کروڑ شہریوں کے لیے وجودی خطرہ قرار دینے پر واضح توجہ دی گئی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا لہجہ سخت ہے، جو عالمی قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ کی صورت میں 'بھرپور جواب' کی وارننگ بھی دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •30 جون 2026 کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں 'سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ' کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا۔
- •وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 1960 کا معاہدہ سرحد پار پانی کی تقسیم کی قانونی بنیاد ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
- •پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے تصدیق کی کہ پاکستان نے مغربی دریاؤں پر بھارتی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے خلاف دو بار Permanent Court of Arbitration سے رجوع کیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔