تہران کی گوشت کی مارکیٹ میں مداخلت، مہنگائی نے عید کی رسومات کو متاثر کر دیا
جب بے لگام مہنگائی نے ایک مذہبی ضرورت کو لگژری بنا دیا، تو تہران حکومت بڑھتے ہوئے معاشی غم و غصے کو روکنے کے لیے مذہبی رسومات پر سبسڈی دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔
The report synthesizes verifiable economic indicators from regional media while applying a critical analytical lens to the Iranian government's market intervention and its impact on social stability.

""میں عموماً ہر تین ہفتوں میں سالن یا چند ڈشز کے لیے گوشت خریدتا ہوں، لیکن محلے کے کچھ خاندانوں کے لیے اب یہ ایک طرح کی عیاشی بن چکا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
حکومت کی یہ مداخلت ایک سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ اہم مذہبی دورانیے میں سماجی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اگرچہ سرکاری میڈیا 'حفظانِ صحت کے ماحول' اور قیمتوں کے کنٹرول پر زور دے رہا ہے، لیکن اصل حقیقت قوتِ خرید کا مکمل خاتمہ ہے۔ مارکیٹ ریٹ سے بہت کم قیمت پر گوشت فراہم کر کے، حکومت دراصل ایک گہرے نظاماتی زخم پر عارضی پٹی لگا رہی ہے کیونکہ کرنسی کی قدر میں کمی نے غریب طبقے کے لیے بنیادی غذا تک پہنچنا ناممکن بنا دیا ہے۔
بیرونی پابندیوں اور اندرونی بقا کے درمیان کشیدگی آخری حد تک پہنچ رہی ہے۔ جہاں Al Jazeera امریکی پابندیوں (US sanctions) کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کی اصل وجہ قرار دیتا ہے، وہیں Masoud Rasouli جیسے صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مقامی مویشیوں کی سپلائی صرف اس لیے 'کافی' ہے کیونکہ ملکی طلب ختم ہو چکی ہے۔ یہ ایک 'غربت زدہ توازن' کی طرف اشارہ ہے جہاں مارکیٹ صرف اس لیے مستحکم نظر آتی ہے کیونکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اب اس میں حصہ لینے کے قابل ہی نہیں رہا۔
پس منظر اور تاریخ
ایران کی معیشت 1979 کے انقلاب کے بعد سے مختلف سطح کی بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے، لیکن 2018 کے بعد 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' (maximum pressure) کی مہم نے ریال کو مفلوج کر دیا اور ملک کو عالمی بینکاری سے الگ تھلگ کر دیا۔ اس کی وجہ سے پچھلی ایک دہائی سے شدید کساد بازاری کا سامنا ہے، جس نے ماضی میں، خاص طور پر ایندھن اور روٹی کی سبسڈی میں کٹوتیوں کے بعد، ملک گیر احتجاجوں کو جنم دیا ہے۔
عید الاضحیٰ کا ایک بڑے عوامی تہوار سے سمٹ کر ایک سبسڈی والے ریلیف پروگرام میں تبدیل ہونا ایرانی متوسط طبقے کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخی طور پر، جانوروں کی قربانی خوشحالی اور خیرات کی علامت تھی؛ آج، یہ حقیقت کہ ایک کلو گوشت کی قیمت اتنی ہے جتنی دس سال پہلے 50 کلو کی پوری بھیڑ کی تھی، معاشی خود مختاری کے خاتمے اور معیشت کو تیل کی آمدنی سے ہٹانے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی جذبات میں ایک تھکاوٹ اور بیزاری کی کیفیت ہے کیونکہ شہری محض بقا کی معیشت میں گزارا کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت ان سبسڈیز کو ایک ہمدردانہ اقدام کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن مقامی ردِعمل گہری بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں سرخ گوشت اب ایک بنیادی ضرورت کے بجائے ایک 'لگژری' بن گیا ہے۔ لوگوں میں تھکن کا احساس واضح ہے جنہوں نے گوشت کی جگہ دالوں اور انڈوں کا استعمال شروع کیا، لیکن اب وہ متبادل بھی ان کی مالی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •تہران کی میونسپلٹی نے عید الاضحیٰ کے لیے قربانی کے گوشت کی قیمت 74 لاکھ ریال ($4.30) فی کلو مقرر کر دی ہے، جو مارکیٹ ریٹ کا تقریباً ایک تہائی ہے۔
- •ایران میں رواں فارسی سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح 73 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ چاول اور چکن جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں 170 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
- •سرخ گوشت کی قومی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ کم از کم اجرت اب بھی ماہانہ $100 سے کم ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔