تہران کی خطے کو 'پتھر کے دور' میں دھکیلنے کی دھمکی، امریکہ ایرانی توانائی کے نیٹ ورک پر حملوں پر غور کر رہا ہے
مشرقِ وسطیٰ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے کیونکہ تہران نے واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کو ایک خوفناک الٹی میٹم دے دیا ہے: امریکی حفاظتی چھتری سے باہر نکل جائیں ورنہ ناگزیر جنگ کی آگ میں جلنے کے لیے تیار رہیں۔
This brief synthesizes high-stakes military threats from Iranian state officials and speculative reports on U.S. strike plans. The tags reflect the escalatory, 'Stone Age' rhetoric common in state-managed narratives and the reliance on unverified reports of imminent military campaigns.

""کوئی بھی ملک جو مجرم اور جارح امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال کا کام کرے گا، وہ جنگ کے شعلوں میں جل جائے گا۔""
تفصیلی جائزہ
تہران کے اس بدلتے ہوئے لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پراکسیز کے بجائے اب براہِ راست خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ ایران علاقائی تعاون کو 'دفاعی ڈھال' قرار دے کر واشنگٹن اور اس کے عرب شراکت داروں کے درمیان دوری پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب یہ معاملہ صرف میری ٹائم سیکیورٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی چین کی مکمل تباہی کا ڈر پیش ہے۔
امریکی-اسرائیلی حملے کے وقت اور مقصد پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ سورس 1 کے مطابق ایران نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں یہ خطہ 'پتھر کے دور' میں واپس چلا جائے گا، جبکہ سورس 2 کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ دفاع Israel Katz توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ نے فی الحال عالمی تیل کے بحران کے ڈر سے اس کی اجازت نہیں دی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
یہ موجودہ کشیدگی 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی علاقائی جنگ کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں تک ایران نے 'فارورڈ ڈیفنس' ڈاکٹرائن کے تحت پراکسیز کو استعمال کیا تاکہ جنگ اس کی سرحدوں سے دور رہے، مگر 2026 کے آغاز میں ایرانی سرزمین پر براہِ راست حملوں نے اسے اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دیا۔
یہ کشیدگی ایران کی قیادت میں 'Axis of Resistance' اور امریکہ کے حمایت یافتہ سیکیورٹی ڈھانچے کے درمیان مقابلے کا حصہ ہے۔ امریکی میزائل انٹرسیپٹرز کی کمی ایک اہم موڑ ہے، کیونکہ جو ٹیکنالوجیکل برتری پہلے ایران کو روکے ہوئے تھی، وہ اب چیلنج ہو رہی ہے۔
عوامی ردعمل
علاقائی اور عالمی میڈیا میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تمام پرانے 'ریڈ لائنز' ختم ہو چکے ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر کی تباہی کا خوف ہر طرف ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انرجی گریڈ پر حملے سے نہ صرف ایران مفلوج ہوگا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
اہم حقائق
- •میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ کوئی بھی علاقائی ملک جو امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال بنے گا، اسے براہِ راست فوجی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- •امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق White House ایک کئی ہفتوں پر محیط فضائی مہم پر غور کر رہا ہے جس میں ایران کے سویلین پاور پلانٹس اور پیٹرو کیمیکل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
- •Center for Strategic and International Studies کی رپورٹ کے مطابق امریکی میزائل انٹرسیپٹرز کی تعداد 1,000 Patriots اور 250 THAAD میزائلوں سے کم ہو چکی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔