آئی ایس آئی کی دراندازی کا نیا داؤ: دہشت گرد آپریٹوز بھارت کے سیاسی ڈھانچے میں شامل
جموں و کشمیر میں سیکیورٹی کریک ڈاؤن میں تیزی کے ساتھ ہی پاکستان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک اب ایک نیا خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔ وہ جمہوری رکنیت کے کارڈز کو ڈھال بنا کر اپنے خفیہ دہشت گرد آپریشنز کو بھارتی انٹیلی جنس کی نظروں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
This report is based on findings from Indian security agencies and regional media outlets; while specific arrests are documented, the broader strategic claims remain attributed to local officials without independent international verification.
"تلاشی کے دوران رکنیت کا کارڈ ایک ڈھال بن جاتا ہے۔ ہمارے سامنے ایسے کیسز آئے ہیں جہاں او جی ڈبلیوز (OGWs) نے اسلحہ منتقل کرنے کے لیے پارٹی ممبرشپ کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔"
تفصیلی جائزہ
پہاڑی ٹھکانوں سے پارٹی ہیڈ کوارٹرز تک کا یہ شفٹ ہائبرڈ وارفیئر (hybrid warfare) میں ایک جدید تبدیلی ہے۔ مرکزی سیاسی ڈھانچے میں اپنے لوگوں کو شامل کر کے آئی ایس آئی کا مقصد جمہوری نظام کی ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا ہے جہاں سیاسی وابستگی پولیس کی جانچ پڑتال سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس کی آڑ میں فنڈز اور اسلحہ کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔
اگرچہ سیکیورٹی ایجنسیز اب ان سیلز کی نشاندہی کر رہی ہیں، لیکن اس کے سیاسی اثرات کافی شدید ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی سیاسی جماعتوں کو اپنے اندرونی فلٹرنگ کے عمل کو سخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس میں دوہرا خطرہ ہے: قومی سلامتی پر سمجھوتہ اور سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے خطے کے پہلے سے کمزور سیاسی ماحول کو مزید غیر مستحکم کرنا۔
پس منظر اور تاریخ
یہ حکمت عملی 1990 کی دہائی اور 2000 کے شروع میں جموں و کشمیر کی شورش کے دوران استعمال ہونے والے طریقوں سے ملتی جلتی ہے، جہاں عسکریت پسندوں کے ہمدرد مقامی انتظامیہ میں پناہ لیتے تھے۔ تاریخی طور پر او جی ڈبلیوز (OGWs) جو خود ہتھیار نہیں اٹھاتے بلکہ لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں، کشمیری عسکریت پسندی کی بنیاد رہے ہیں۔
باقاعدہ پارٹی رکنیت کا حصول 2019 کے بعد کے سیکیورٹی حالات کا ایک سوچا سمجھا جواب ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور اس کے بعد کریک ڈاؤن کی وجہ سے روایتی نیٹ ورکس متاثر ہوئے تھے۔ اس لیے جمہوری عمل میں دراندازی کر کے یہ گروہ سخت نگرانی کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
عوامی ردعمل
اداریوں میں اس پیش رفت کو انتہائی خطرناک اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، جس سے جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام اسے سیاسی بحالی کی علامت نہیں بلکہ ایک جنگی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں حالیہ تفتیش کے دوران گرفتار او جی ڈبلیوز (OGWs) سے قومی سیاسی جماعتوں کے ممبرشپ کارڈز برآمد کیے ہیں۔
- •سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس S P Vaid نے تصدیق کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی رکنیت کو تلاشی سے بچنے اور اسلحہ کی نقل و حرکت کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
- •جولائی 2020 کے ایک دستاویزی کیس میں Lashkar-e-Toiba کے آپریٹو Talib Hussein کو پکڑا گیا تھا، جو جموں میں ایک قومی جماعت کا فعال رکن اور سوشل میڈیا کا عہدیدار نکلا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔