اسرائیلی افواج نے سن 2000 کے بعد لبنان میں اپنی سب سے بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کے حامل Beaufort Castle پر قبضہ کر لیا
Beaufort Castle کی بارہویں صدی کی فصیلوں پر اسرائیلی پرچم لہرانے کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی نقشہ زبردستی بدلا جا رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے دریائے لیتانی کی 'ریڈ لائن' اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
This brief incorporates official military announcements and regional political responses, which frequently frame tactical movements through either patriotic or accusatory lenses, requiring readers to distinguish between established military positions and contested political characterizations.

""Beaufort کی تاریخی جنگ کے 44 سال بعد، اور پہلی لبنان جنگ میں مارے جانے والے سپاہیوں کی یاد کے دن، ہماری فوجیں Beaufort کی چوٹی پر واپس آ گئی ہیں اور وہاں ایک بار پھر اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
Beaufort Castle پر قبضہ محض ایک علامتی فتح نہیں ہے؛ یہ IDF کو Nabatieh کے میدانوں اور جنوبی راہداری پر بلندی سے نگرانی کا ایک اہم مقام فراہم کرتا ہے۔ دریائے لیتانی، جو کہ بین الاقوامی سفارت کاری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت ایک طویل عرصے سے ایک حد رہی ہے، اسے عبور کر کے اسرائیل یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس کی 'Forward Defense Line' اب صرف سرحدی علاقے تک محدود نہیں ہے۔ یہ کشیدگی ریجنل کنٹینمنٹ کے ڈھانچے کو ختم کر رہی ہے اور تنازع کو محدود جھڑپوں سے ایک مکمل علاقائی قبضے میں تبدیل کر رہی ہے۔
اس حملے کے بارے میں بیانیہ شدید تقسیم کا شکار ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع Israel Katz اسے گلیلی کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر دفاعی اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ لبنانی وزیر اعظم Nawaf Salam نے اسے 'تباہی کی پالیسی' اور اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ Hezbollah کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن دریائے زہرانی تک انخلاء کے احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تزویراتی مقصد ایک مستقل بفر زون بنانا ہے، جو Washington میں جاری سفارتی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Beaufort Castle، جسے اصل میں 12ویں صدی میں صلیبیوں نے تعمیر کیا تھا، صدیوں سے جنوبی لبنان کی فوجی تاریخ کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ 700 میٹر بلند چٹان پر اس کا محل وقوع دریائے لیتانی اور گلیلی کا بے مثال منظر پیش کرتا ہے، جو اسے اسرائیلی سرحد کے شمالی راستے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم بناتا ہے۔ 1982 کی لبنان جنگ کے دوران، یہ قلعہ IDF اور PLO کے درمیان ایک شدید لڑائی کا میدان رہا، جس کے بعد اسرائیل نے تقریباً دو دہائیوں تک اس قلعے کو اپنی بنیادی فوجی چوکی کے طور پر استعمال کیا۔
سن 2000 میں لبنان سے اسرائیلی انخلاء کا مقصد مستقل فوجی چوکیوں کے دور کا خاتمہ تھا، لیکن یہ قلعہ لبنانی خودمختاری اور مزاحمت کی ایک طاقتور علامت بنا رہا۔ آج Golani Brigade کی دوبارہ واپسی خاص طور پر پہلی لبنان جنگ کی یاد دلاتی ہے، جو موجودہ فوجی مقاصد کو 20ویں صدی کے آخر کے 'سیکیورٹی زون' نظریے سے جوڑتی ہے۔ Beaufort میں یہ واپسی اس فوجی پوزیشن کی علامتی اور جسمانی بحالی ہے جسے بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ 2006 کے تنازع کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
عوامی ردعمل
غالب جذبات شدید تشویش اور سفارتی مایوسی کے ہیں۔ ادارتی ردعمل اسرائیلی حکام کی جانب سے فتح کے دعوؤں اور لبنانی قیادت کی جانب سے 'اجتماعی سزا' کے بارے میں سخت انتباہات کے درمیان تقسیم ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین دریائے لیتانی عبور کرنے کو ایک ایسا فیصلہ کن موڑ قرار دے رہے ہیں جو وسیع تر علاقائی جنگ کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
اہم حقائق
- •اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے دریائے لیتانی عبور کر کے 31 مئی 2026 کو Nabatieh Governorate میں قرون وسطیٰ کے Beaufort Castle پر قبضہ کر لیا۔
- •اسرائیلی فوج نے دریائے زہرانی کے جنوب میں رہنے والے تمام رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس سے جنگی زون سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر دور تک پھیل گیا ہے۔
- •Golani Brigade نے باضابطہ طور پر قلعے پر اسرائیل کا قومی پرچم اور اپنے یونٹ کا بینر لہرایا، جو کہ 26 برسوں میں لبنان کے اندر اسرائیل کی سب سے گہری فوجی پیش قدمی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔