اسرائیل کا لبنان میں قیام طویل کرنے کا حکم، انخلاء کو حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط کر دیا
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے لبنان سے فوری واپسی کی تمام امیدیں ختم کر دی ہیں، انہوں نے ایک انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک حزب اللہ مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتی، تب تک ایک بھی فوجی واپس نہیں بلایا جائے گا۔
This report relies on statements attributed to an Israeli official by a single regional news outlet. While the claims are clearly attributed, the tags reflect the absence of corroborating independent international reports at this time.

"فوج کو جنوبی لبنان میں 'طویل قیام' کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ اصرار کیا گیا ہے کہ جب تک پورے لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، افواج پیچھے نہیں ہٹیں گی۔"
تفصیلی جائزہ
یہ اقدام سرحدی آپریشن سے طویل مدتی فوجی قبضے کی طرف ایک سٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
صرف سرحدی علاقوں کے بجائے پورے ملک میں غیر مسلح ہونے کی شرط رکھ کر، اسرائیل دراصل کھیل کے قوانین بدل رہا ہے۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جہاں اسرائیلی فوج لبنان کی حکومت اور علاقائی حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے غیر معینہ مدت تک وہاں موجود رہے۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ کشیدگی کی جڑیں 1982 کی لبنان جنگ میں ہیں، جس کے بعد جنوبی لبنان کے 'سیکیورٹی زون' پر اسرائیل کا 18 سالہ قبضہ رہا جو 2000 تک جاری رہا۔ اسی دور میں حزب اللہ ایک مزاحمتی قوت کے طور پر ابھری۔
اسرائیل کا اب مکمل غیر مسلح ہونے پر اصرار اس سٹریٹجک نتیجے کی عکاسی کرتا ہے کہ ماضی کی پالیسیاں اور بین الاقوامی قراردادیں (جیسے UN Resolution 1701) ناکام ہو چکی ہیں۔
عوامی ردعمل
غالب تاثر تشویش اور سٹریٹجک سختی کا ہے۔ تجزیہ کاروں کو 'مشن کریپ' (mission creep) کا ڈر ہے، جہاں ایک عارضی مداخلت مستقل پھنسنے کی صورت اختیار کر سکتی ہے، اور صرف سفارتی ذرائع سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
اہم حقائق
- •اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے 27 جون 2026 کو فوج کو جنوبی لبنان میں 'طویل قیام' کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔
- •اسرائیل نے پورے لبنان میں حزب اللہ کے مکمل خاتمے اور غیر مسلح ہونے کو فوجی انخلاء کے لیے ایک ایسی شرط قرار دیا ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
- •موجودہ فوجی آپریشنز اور ممکنہ انخلاء US کی ثالثی میں ہونے والے ایک معاہدے کے فریم ورک کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔