ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Middle East28 جون، 2026Fact Confidence: 95%

اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدہ خطرے میں، حزب اللہ کا بھرپور مزاحمت کا اعلان

امریکہ کی کوششوں سے بنایا گیا امن کا عارضی راستہ اب آگ کی لپیٹ میں ہے، جہاں اسرائیلی ڈرون حملوں اور حزب اللہ کی جانب سے 'شرمناک' شرائط کو مسترد کیے جانے کے بعد لیونٹ کا خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedDisputed ClaimsPro-State Narratives

This report synthesizes the conflicting strategic narratives of the Israeli government and Hezbollah leadership regarding the US-brokered peace framework. It relies on international reporting to verify kinetic events while explicitly attributing political claims and sovereignty disputes to their respective sources.

اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدہ خطرے میں، حزب اللہ کا بھرپور مزاحمت کا اعلان
"واشنگٹن میں ہونے والا فریم ورک معاہدہ ذلت آمیز، شرمناک اور خود مختاری پر سمجھوتہ ہے۔ یہ معاہدہ کالعدم اور بے کار ہے۔"
Naim Qassem (Reacting to the US-brokered peace framework signed in Washington)

تفصیلی جائزہ

واشنگٹن معاہدے کی بقا کا دارومدار لبنانی حکومت کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ مخصوص علاقوں سے 'نان اسٹیٹ ایکٹرز' کو نکال سکے، جو کہ حزب اللہ کے مضبوط فوجی ڈھانچے کی موجودگی میں ایک ناممکن کام لگتا ہے۔ وزیر اعظم Netanyahu اس معاہدے کو Iran کے لیے ایک تزویراتی دھچکا قرار دیتے ہیں، لیکن اسرائیلی وزیر دفاع Israel Katz کے حکم پر 10 کلومیٹر کے بفر زون میں اسرائیلی موجودگی بیروت کی سیکیورٹی ضمانتوں پر عدم اعتماد ظاہر کرتی ہے۔

سیکیورٹی زون کی قانونی حیثیت اور مدت پر بھی تنازع پایا جاتا ہے۔ BBC کے مطابق حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ 'کالعدم' ہے اور قبضے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملے صرف ان افراد کے خلاف ہیں جو ان کی افواج کے لیے فوری خطرہ ہیں۔ اصل مسئلہ غیر مسلح ہونے کی شرط ہے؛ حزب اللہ اسرائیل کے انخلاء اور اپنے اسلحہ چھوڑنے کے درمیان کسی بھی تعلق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پس منظر اور تاریخ

موجودہ تنازع کی جڑیں دہائیوں پرانی سرحدی کشیدگی میں ہیں، جو تازہ ترین طور پر 2 مارچ 2026 کو اس وقت بھڑک اٹھیں جب حزب اللہ نے Iran کے سپریم لیڈر کے قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر حملے کیے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائی کی، جس میں لبنان میں 4,192 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے۔ تاریخی طور پر جنوبی لبنان ایک متنازع 'بفر' رہا ہے، خاص طور پر 1982-2000 کے اسرائیلی قبضے اور 2006 کی جنگ کے دوران، جب دریائے لیطانی اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کی علامتی حد بن گیا۔

اپریل 2026 کی جنگ بندی کی ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی ثالث اسرائیل اور ایران نواز گروہوں کے درمیان طاقت کی جنگ کو حل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔ موجودہ فریم ورک کے ذریعے لبنانی فوج کو جنوب کا کنٹرول دینے کی کوشش بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ حزب اللہ کی متوازی حکومتی ڈھانچے نے ہمیشہ بیروت کے فوجی اختیار کو کمزور کیا ہے۔

عوامی ردعمل

اس وقت فضا میں گہری بے یقینی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ جہاں واشنگٹن میں عالمی ثالث اس معاہدے کو ایک 'تاریخی' پیش رفت قرار دے رہے ہیں، وہیں لبنان میں لوگ تقسیم ہیں؛ ایک طرف امن کی خواہشمند تھکی ہوئی عوام ہے اور دوسری طرف حزب اللہ کے حامی جو اسے شرمناک ہتھیار ڈالنا سمجھتے ہیں۔ اسرائیل میں ایران کو پہنچنے والے دھچکے پر فتح کا جشن منایا جا رہا ہے، لیکن فوج کی 'طویل قیام' کی تیاریاں بتاتی ہیں کہ سیکیورٹی حکام کو سفارتی کامیابی سے فوری استحکام کی کوئی امید نہیں ہے۔

اہم حقائق

  • 27 جون 2026 کو جنوبی لبنانی قصبے نبطیہ الفوقا میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
  • حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے باضابطہ طور پر امریکہ کے زیرِ انتظام معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسلحہ چھوڑنے کی شرط کو 'ریڈ لائن' قرار دیا۔
  • نئے سیکیورٹی فریم ورک کے تحت، جنوبی لیطانی سے انخلاء کے منصوبے کے باوجود اسرائیلی افواج کو لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر کے 'سیکیورٹی زون' میں رہنے کی اجازت ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Nabatieh📍 Litani River📍 Washington DC

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Israel-Lebanon Peace Deal Fractures as Hezbollah Declares Total Resistance - Haroof News | حروف