جے پور کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں انتظامی غفلت نے زندگی بچانے والے ٹرانسپلانٹس روک دیے
جب محض ایک سرکاری افسر کی ریٹائرمنٹ زندگی بچانے والے آپریشنز کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، تو یہ نظام کی اس کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسانی جان سے زیادہ دفتری طریقہ کار کو اہمیت دی جاتی ہے۔
This report accurately reflects documented administrative failures at Sawai Mansingh Hospital but uses highly emotive and critical framing to highlight systemic issues within India's public health infrastructure.
""ہم اپنے علاج پر تقریباً 5 لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں۔ پہلے ہم آئے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ پھر ہم اس گیسٹ ہاؤس میں منتقل ہو گئے۔ لیکن یہاں بھی روزانہ کا خرچہ 900 روپے ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ بھارت کے سرکاری صحت کے ڈھانچے میں جانشینی کی منصوبہ بندی کی بدترین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ محض ایک کمرہ بند ہونے کی وجہ سے 11 زندگی بچانے والے آپریشنز کا رک جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہسپتال میں انتظامی تبدیلیوں کے لیے کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں تھا۔
اگرچہ اب حکومت کی جانب سے 'تیزی' دکھانے کی خبریں ہیں، لیکن 30 دن سے زائد کی تاخیر ہسپتال انتظامیہ کی سنگین غفلت کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ تنازعہ طبی مہارت کی کمی کا نہیں بلکہ فائلوں اور دفتر پر قبضے کا تھا، جو سرکاری اداروں میں بیوروکریٹک رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
جے پور کا Sawai Mansingh (SMS) Hospital طویل عرصے سے راجستھان کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، جہاں دیہی علاقوں کے وہ مریض آتے ہیں جو نجی علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تاریخی طور پر، بھارت کا سرکاری نظامِ صحت اکثر مخصوص سینئر ماہرین پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے جانے کے بعد نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔
دہائیوں سے، بھارت میں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو جدید بنانے کی کوششیں سرخ فیتے اور جوابدہی کی کمی کی وجہ سے سست رہی ہیں۔ کاغذی ریکارڈ سے ڈیجیٹل سسٹم کی طرف منتقلی ہر جگہ یکساں نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے ایک ریٹائرمنٹ نے پورے طبی عمل کو ہفتوں تک معطل کر دیا۔
عوامی ردعمل
عوام اور میڈیا کا ردعمل ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید غصے اور مایوسی پر مبنی ہے۔ راجستھان کی محکمہ صحت کی حکام پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے ایک ریٹائرمنٹ جیسے معمول کے واقعے کو غریب مریضوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بننے دیا۔
اہم حقائق
- •جے پور کے Sawai Mansingh Hospital میں 30 مئی کو سینئر نیفرالوجسٹ ڈاکٹر Dhananjay Agarwal کی ریٹائرمنٹ کے بعد اعضاء کی پیوند کاری کا عمل تقریباً ایک ماہ تک معطل رہا۔
- •ٹرانسپلانٹ کے طریقہ کار کے لیے ضروری مریضوں کا اہم ریکارڈ دستیاب نہیں تھا کیونکہ وہ ریٹائرڈ ڈاکٹر کے دفتر، یعنی کمرہ نمبر 518، میں بند تھا۔
- •عوامی احتجاج اور میڈیا رپورٹس کے بعد ہی راجستھان حکومت نے نئے سربراہِ شعبہ کا تقرر کیا اور مقفل ریکارڈ کھولنے کی اجازت دی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔