کراچی کی شہری بدحالی: EIU انڈیکس نے پاکستان کے معاشی مرکز میں ڈھانچے کی تباہی کو بے نقاب کر دیا
جہاں ایک طرف پاکستان کا معاشی پہیہ جام ہو رہا ہے، وہیں تازہ ترین عالمی درجہ بندی نے ایک تلخ حقیقت کی تصدیق کر دی ہے: کراچی رہنے کے قابل نہ رہنے والے شہروں کی فہرست میں بالکل دہانے پر پہنچ چکا ہے، اور اس سے نیچے صرف وہی شہر ہیں جو خانہ جنگی اور مکمل ادارہ جاتی تباہی کا شکار ہیں۔
While the brief accurately synthesizes data from the Economist Intelligence Unit's 2026 index, it utilizes highly evocative and sensationalized terminology like 'structural collapse' and 'urban decay' to characterize the findings. This reflects a specific editorial interpretation of the city's long-term governance challenges rather than just the raw metrics provided by the EIU.

"کراچی سے نیچے صرف ڈھاکہ، طرابلس اور دمشق جیسے شہر ہیں، جبکہ جنگ زدہ تہران اور Kyiv (کیو) کا سکور اس سے کچھ بہتر رہا۔"
تفصیلی جائزہ
EIU کی یہ درجہ بندی پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں دہائیوں سے جاری ناقص گورننس پر ایک چارج شیٹ ہے۔ اگرچہ کراچی تعلیم میں بہتر ہے، لیکن استحکام میں صرف 20 سکور امن و امان کے سنگین بحران اور جرائم کی نشاندہی کرتا ہے جو شہر کی معاشی صلاحیت کو ختم کر رہا ہے۔ کراچی کا دمشق اور طرابلس کے قریب ہونا ظاہر کرتا ہے کہ عام شہری کے لیے سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر کی جدوجہد کسی جنگی علاقے میں رہنے جیسی ہی ہے۔
2026 کی فہرست میں جیو پولیٹیکل عدم استحکام نے نقشہ بدل دیا ہے۔ جہاں کراچی کی تنزلی کی وجہ اندرونی غفلت ہے، وہیں مسقط اور دوحہ جیسے شہر US-Iran جنگ کی وجہ سے نیچے گرے۔ یہ خطے کے لیے دہرا بحران ہے: جنوبی ایشیا میں شہری بدحالی اور خلیج میں فوجی ٹکراؤ، جس کی وجہ سے سرمایہ اور ٹیلنٹ Copenhagen (کوپن ہیگن) جیسے محفوظ یورپی شہروں کا رخ کر رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
کراچی کو کبھی 'روشنیوں کا شہر' کہا جاتا تھا اور یہ 1960 اور 70 کی دہائی میں جنوبی ایشیا کا ایک بڑا مرکز تھا۔ تاہم، 1980 کی دہائی سے لسانی تفریق اور سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگز کے ابھار کے ساتھ یہاں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ اس دور نے شہری اداروں کو تباہ کیا، جہاں لینڈ گریبنگ اور غیر قانونی تعمیرات نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جگہ لے لی اور انفراسٹرکچر پر بوجھ بڑھا دیا۔
پچھلے بیس سالوں میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان کھینچا تانی نے بنیادی سہولیات جیسے کچرا اٹھانے، نکاسی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تباہ کر دیا۔ 2026 کی یہ رینکنگ اسی غفلت کا نتیجہ ہے، جہاں شہر کا انفراسٹرکچر 2 کروڑ سے زائد آبادی کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا، جس سے یہ قدرتی آفات اور سماجی بے چینی کا شکار ہو گیا ہے۔
عوامی ردعمل
عام تاثر مایوسی اور تشویش کا ہے، کیونکہ کراچی کی اس رینکنگ کو اب حیرت سے نہیں بلکہ ریاست کی مسلسل غفلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ادارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا ٹیکس دہندہ ہونے کے باوجود انفراسٹرکچر میں اپنا حصہ نہیں پا رہا۔ مزید برآں، خلیجی شہروں کی تنزلی نے علاقائی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
اہم حقائق
- •کراچی Economist Intelligence Unit (EIU) کے Global Liveability Index 2026 میں 173 شہروں میں سے 170 ویں نمبر پر رہا، جس کا مجموعی سکور 100 میں سے 43 رہا۔
- •شہر کی سب سے خراب کارکردگی 'استحکام' (stability) میں رہی جہاں اس نے 100 میں سے 20 سکور کیا، جبکہ سب سے بہتر تعلیم میں 75 رہا۔
- •مشرق وسطیٰ کے علاقائی مراکز بشمول مسقط، دوحہ اور دبئی کی درجہ بندی میں US-Iran جنگ کے جیو پولیٹیکل اثرات کی وجہ سے نمایاں کمی دیکھی گئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔