کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی: جانشینی کی جنگ تیز ہونے پر سدارامیا مستعفی ہونے کے لیے تیار
بنگلورو میں سیاسی ہلچل اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ سدارامیا اپنی کرسی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس فیصلے نے کانگریس پارٹی کے اندر اقتدار کی ایک شدید جنگ چھیڑ دی ہے جس سے جنوبی ہندوستان میں پارٹی کے مضبوط گڑھ کی استحکام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
The brief is tagged as sensationalized due to its high-intensity language regarding party stability, while the 'disputed' tag reflects conflicting reports between official party denials of a leadership meeting and speculative claims of internal strategic maneuvering to block specific successors.

"معلوم ہوا ہے کہ سدارامیا کانگریس لیجسلیچر پارٹی (CLP) کا اجلاس بلانے کے لیے ہائی کمان پر زور دے رہے ہیں تاکہ اپنا جانشین منتخب کیا جا سکے۔ پارٹی ذرائع اسے ڈی کے شیوکمار کے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ صرف ایک استعفیٰ نہیں ہے بلکہ ایک تزویراتی پسپائی ہے جو پسماندہ طبقات کے اس لیڈر کے ایک دور کا خاتمہ کر رہی ہے، مگر جانشینی کی اصل جنگ تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ خبروں کے مطابق سدارامیا سی ایل پی (CLP) ووٹنگ پر اصرار کر کے جی پرمیشورا جیسے کسی دلت امیدوار کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ڈپٹی سی ایم ڈی کے شیوکمار کی تاج پوشی کو روکا جا سکے۔ ٹائمز آف انڈیا کا دعویٰ ہے کہ سدارامیا جان بوجھ کر الیکشن کروا رہے ہیں، جبکہ دی ہندو کے مطابق ہائی کمان اس تبدیلی کو پرامن دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ تصادم مقامی عوامی لیڈروں اور دہلی ہائی کمان کے درمیان کھچاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر 'اتفاق رائے' کی حکمت عملی ناکام ہوئی تو پارٹی کو اپنی سب سے اہم ریاستی حکومت میں عوامی سطح پر پھوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک عہدے کا نہیں ہے بلکہ ریاست کے وسائل پر کنٹرول اور شیوکمار گروپ کی تنظیمی طاقت کے مقابلے میں سدارامیا کی سیاسی وراثت کو بچانے کا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
سدارامیا کے دورِ حکومت کی پہچان 'اہنڈا' (AHINDA) اتحاد رہا ہے، جس میں اقلیتیں، پسماندہ طبقات اور دلت شامل تھے۔ اسی سیاسی حکمت عملی نے انہیں دو بار اقتدار تک پہنچایا۔ آٹھ سال سے زیادہ عرصے تک وزیر اعلیٰ رہ کر انہوں نے اپنے گرو ڈی دیوراج ارس کا ریکارڈ بھی توڑ دیا جو کرناٹک میں پسماندہ طبقات کی سیاست کے بانی مانے جاتے تھے۔
سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کی رقابت ایک دہائی پرانی کہانی ہے۔ جہاں سدارامیا جنتا پریوار سے کانگریس میں آئے تھے، وہیں شیوکمار پارٹی کے بنیادی ڈھانچے سے ابھرے اور 'ٹربل شوٹر' (مشکل کشا) کے طور پر پہچانے گئے۔ موجودہ تبدیلی اس معاہدے کا نتیجہ ہے جو 2023 کے انتخابات کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
عوامی ردعمل
کرناٹک کی سیاست میں اس وقت بے چینی اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا احساس پایا جاتا ہے۔ اگرچہ پارٹی ترجمان نظم و ضبط کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن گورنر سے ملاقات کی جلدی بتاتی ہے کہ حکومت ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ مختلف دھڑوں کے حامی ایک بڑے مقابلے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
اہم حقائق
- •وزیر اعلیٰ سدارامیا نے 28 مئی 2026 کی دوپہر کو گورنر تھاور چند گہلوت سے اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے لیے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔
- •کانگریس ہائی کمان نے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے بدلے راجیہ سبھا کی نشست اور قومی سطح پر اہم کردار کی پیشکش کی ہے۔
- •اے آئی سی سی (AICC) کے جنرل سیکرٹریز رندیپ سنگھ سرجے والا اور کے سی وینوگوپال کو قیادت کی تبدیلی کی نگرانی کے لیے بنگلورو بھیج دیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔