کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: آپریشن مکمل، ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ حملہ ایک بڑا صدمہ ہے، جس میں معصوم بچوں اور ایک سماجی کارکن کو نشانہ بنایا گیا۔
کوہاٹ میں 20 گھنٹے طویل کلیئرنس آپریشن اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد ہر طرف غم و الم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حملے میں جہاں سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، وہیں معصوم بچوں اور ایک سماجی کارکن کی موت نے سب کے دل دہلا دیے ہیں۔
This brief synthesizes high-trust reporting from BBC Urdu and the Express Tribune, which show high consensus on casualty figures. The 'State-Critical' tag reflects the included political analysis regarding the Khyber-Pakhtunkhwa Chief Minister's explicit criticism of federal counter-terrorism and Afghan foreign policy.

"اس نے اسی سال عبداللہ کا داخلہ کروایا تھا۔ داخلہ فیس کے لیے ادھار لیا اور کسی کو بتایا تک نہیں... وہ کہتا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتا ہوں تاکہ وہ زندگی میں کچھ بن سکے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ حملہ دہشت گردوں کی جدید حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں پہلے ایک بڑی گاڑی (VBIED) کے ذریعے سکیورٹی حصار کو توڑا گیا اور پھر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ عمارت پر قبضہ کیا گیا۔ اس کا مقصد سکیورٹی فورسز اور جمعہ کی نماز کے لیے آئے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔
الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار محمد لقمان کی اپنے 4 سالہ بیٹے اور 3 سالہ بھتیجے کے ساتھ شہادت نے انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ Sohail Afridi نے وفاقی پالیسیوں اور افغانستان کے ساتھ خراب تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی پالیسی بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
خیبر پختونخوا 2004 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اہم مرکز رہا ہے۔ کوہاٹ اپنی جغرافیائی اہمیت اور قبائلی علاقوں سے نزدیکی کی وجہ سے ہمیشہ عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہا ہے۔
پشاور مسجد دھماکے کے بعد پولیس لائنز جیسے حساس علاقوں پر دوبارہ حملے 'Red Zone' کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور اسلام آباد کابل پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، خاص طور پر معصوم بچوں کی ہلاکت پر گہرا دکھ ہے۔ سیاسی قیادت وفاقی حکومت کی ناکام سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
اہم حقائق
- •کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے اور عمارت کے محاصرے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 23 ہو گئی ہے، جن میں 17 سکیورٹی اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔
- •Elite Force، CTD اور پاک فوج کے 20 گھنٹے طویل آپریشن کے دوران 8 دہشت گرد مارے گئے۔
- •حملے کا آغاز پرانی پولیس لائنز مسجد کے قریب بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے سے ہوا، جس کے بعد دہشت گرد Special Branch کی عمارت میں داخل ہو گئے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔