خیبر پختونخوا کا 2.12 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش، مسلسل مالیاتی خسارے کا سامنا
صوبائی استحکام کے لیے ایک بڑے قدم کے طور پر، خیبر پختونخوا نے کئی کھرب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں ایک طرف 'انقلابی' سماجی وعدے ہیں اور دوسری طرف وفاقی منتقلی پر صوبے کے شدید انحصار کی تلخ حقیقت۔
This brief is tagged as 'Pro-State Leaning' because it centers on the provincial government's official 'revolutionary' narrative, while the 'Disputed Claims' tag reflects a 50 billion rupee discrepancy between primary sources regarding the total budget outlay.

""حکومت ایک عوامی اور انقلابی بجٹ پیش کر رہی ہے۔""
تفصیلی جائزہ
بجٹ سے ایک ایسے ڈھانچہ جاتی انحصار کا پتہ چلتا ہے جو صوبے کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؛ آمدنی کا تقریباً 75 فیصد وفاقی وصولیوں سے آنے کی توقع ہے، جس سے خیبر پختونخوا کی مالیاتی خود مختاری محض دکھاوا نظر آتی ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ Sohail Afridi 'خوشحال خیبر پختونخوا' منصوبے کو انقلابی قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبہ 1.645 ٹریلین روپے کے بھاری کرنٹ اخراجات اور محدود اندرونی آمدنی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
رپورٹنگ میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے: ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ کل حجم 2.17 ٹریلین روپے ہے، جبکہ دوسرا ذریعہ اسے 2.12 ٹریلین روپے بتاتا ہے۔ 50 ارب روپے کا یہ فرق غالباً مجموعی اخراجات اور نیٹ ایلوکیشن کے درمیان فرق کی وجہ سے ہے۔ مزید برآں، امن و امان کے لیے 191 ارب روپے کی خطیر رقم اس 'سیکیورٹی ٹیکس' کی نشاندہی کرتی ہے جو صوبہ مسلسل ادا کر رہا ہے، جو صوبائی کابینہ کے 'خوشحالی' کے بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پشاور اور اسلام آباد کے درمیان مالیاتی تعلقات دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، خاص طور پر Net Hydel Profits (NHP) اور NFC ایوارڈ کے حوالے سے۔ خیبر پختونخوا کا تاریخی موقف رہا ہے کہ اسے قومی گرڈ میں پن بجلی کے بڑے حصے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی کے غیر متناسب اخراجات کا پورا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
2010 میں آئین کی 18 ویں ترمیم نے صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں صوبوں کی ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کیا، لیکن خیبر پختونخوا جیسے صوبوں کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت ان ذمہ داریوں کا ساتھ نہ دے سکی۔ یہ بجٹ ایک دہائی پرانے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں صوبائی حکومتیں Sehat Card جیسی سماجی تحفظ کی اسکیموں کا اعلان تو کرتی ہیں، لیکن وفاقی منتقلی کے بغیر انہیں چلانے کے قابل نہیں۔
عوامی ردعمل
صوبائی حکومت کا لب و لہجہ پرامید ہے اور وہ خسارے اور وفاقی فنڈز پر بھاری انحصار کے باوجود بجٹ کو 'عوام دوست' قرار دے رہی ہے۔ جہاں حکام Sehat Card اور کم از کم اجرت 45,000 روپے کرنے جیسی کامیابیوں کو اجاگر کر رہے ہیں، وہیں مالیاتی تجزیہ کار محتاط ہیں اور ان کی توجہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان ناقابل برداشت فرق پر ہے۔
اہم حقائق
- •خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 2.12 ٹریلین روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے جس میں 48 ارب روپے کا مالیاتی خسارہ متوقع ہے۔
- •صوبائی آمدنی کا بڑا حصہ وفاقی منتقلی پر مشتمل ہے، وفاق سے 1.584 ٹریلین روپے ملنے کی امید ہے جبکہ صوبے کی اپنی آمدنی صرف 182 ارب روپے ہے۔
- •بجٹ میں تعلیم کے لیے 468 ارب، صحت کے لیے 334 ارب اور Annual Development Programme (ADP) کے لیے 524 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔