ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan•8 اکتوبر، 2026•2 منٹ•ایک ذریعہ

لاہور ہائی کورٹ کا نادرا کو شناختی کارڈ میں صنفی غلطی درست کرنے کا حکم

یہ فیصلہ یقینی بنائے گا کہ آپ کے شناختی کارڈ کا نمبر آپ کی جنس کے مطابق ہو، تاکہ قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔

شناختی کارڈ کے ایک ہندسے پر ہونے والی قانونی جنگ نے نادرا کے نظام کی سختی کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر عدالت کو مداخلت کرنی پڑی۔

AI Editor's Analysis
Single sourceAnalyticalFact-based

This report relies exclusively on a single account from Express News. While the legal findings are presented clinically, the score reflects the lack of independent corroboration from official court transcripts or NADRA press offices.

لاہور ہائی کورٹ کا نادرا کو شناختی کارڈ میں صنفی غلطی درست کرنے کا حکم
"نادرا کا ڈیٹا بیس شناختی کارڈ کی درستگی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا؛ اتھارٹی درست معلومات درج کرنے کی پابند ہے۔"
Justice Mohsin Akhtar Kayani (Writing the judgment for the Lahore High Court regarding a citizen's gender correction on his CNIC.)

تفصیلی جائزہ

ایکسپریس نیوز کے مطابق، اس تنازع کی اصل وجہ نادرا کا تکنیکی ڈھانچہ ہے۔ اگرچہ ادارے نے کارڈ پر جنس تو 'مرد' کر دی تھی، لیکن سسٹم میں موجود آخری ہندسہ بدلنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی آسانی کسی شہری کے درست قانونی شناخت کے حق سے بڑھ کر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یہ خبر ایکسپریس نیوز کی رپورٹ پر مبنی ہے اور ابھی عدالتی دستاویزات سے اس کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ایسے فیصلے اہم ہیں کیونکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں جنس کا فرق ویزا، جائیداد کی منتقلی اور وراثت کے معاملات میں سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

نادرا کا قیام 2000 میں عمل میں آیا تاکہ پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا مرکزی نظام (CNIC) کے تحت لایا جا سکے۔ 13 ہندسوں کا یہ نظام اپنے مخصوص کوڈز کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے جدید ترین مگر سخت ترین ڈیٹا بیسز میں سے ایک ہے۔

گزشتہ دہائی میں پاکستانی عدالتوں نے نادرا کے خودکار نظام اور شہریوں کے حقوق کے درمیان کئی بار ثالثی کی ہے۔ اس سے قبل خواجہ سراؤں کی صنفی شناخت اور والد کے نام کے بغیر شناختی کارڈ کے حصول جیسے اہم کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

عوامی ردعمل

یہ رپورٹ عدالتی جوابدہی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عدالت نے ایک سرکاری ادارے کی ضد کے خلاف شہری کے حق میں فیصلہ دیا۔

اہم حقائق

  • •لاہور ہائی کورٹ نے نادرا کو ساجد نامی شہری کے کارڈ کا آخری ہندسہ مردانہ کوڈ کے مطابق تبدیل کرنے کا حکم برقرار رکھا۔
  • •نادرا کے نظام میں خواتین کے شناختی کارڈ کے نمبر جفت (2, 4, 6, 8) اور مردوں کے طاق (1, 3, 5, 7, 9) ہندسوں پر ختم ہوتے ہیں۔
  • •یہ غلطی 2010 میں ہوئی تھی جب شہری کے والد نے رجسٹریشن فارم پر غلطی سے جنس کے خانے میں خاتون لکھ دیا تھا۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Lahore High Court

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Lahore High Court orders NADRA to fix gender identification error - Haroof News | حروف