ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Technology & Science6 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

نئی زبانیں سیکھنے کا ہنر: انسانی عمر کی گھڑی کو کیسے بدلا جا سکتا ہے؟

ایک ایسی دنیا کا تصور کریں جہاں جوانی کا راز کسی دوا یا جادوئی مشروب میں نہیں، بلکہ ایک غیر ملکی زبان کے لہجے اور الفاظ میں چھپا ہو جو انسانی دماغ کے راستوں میں گونج رہے ہوں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSensationalized

While the report is rooted in empirical findings presented at a major neuroscience conference, it utilizes evocative, optimistic framing and metaphors to describe the clinical data, which is characteristic of popular science reporting.

نئی زبانیں سیکھنے کا ہنر: انسانی عمر کی گھڑی کو کیسے بدلا جا سکتا ہے؟
"آسان الفاظ میں، جو لوگ زیادہ زبانیں بولتے ہیں، ان کے دماغ اپنی اصل عمر کے مقابلے میں زیادہ جوان نظر آتے ہیں۔ یہ اثر صرف زبانوں کی تعداد تک محدود نہیں تھا بلکہ زبان پر مہارت اور بچپن میں دوسری زبان سیکھنا بھی دماغی بڑھاپے میں تاخیر کا باعث پایا گیا۔"
Dr. Lucia Amoruso (Discussing the results of a neurological study involving hundreds of participants in the Basque region.)

تفصیلی جائزہ

یہ دریافت بتاتی ہے کہ جب دماغ کو متعدد پیچیدہ ڈیٹا سیٹس یعنی مختلف زبانوں کو سنبھالنا پڑتا ہے، تو اس کا آپریٹنگ سسٹم زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس سے دماغی رابطوں میں ایسی بہتری آتی ہے جو ایک کم عمر حیاتیاتی عمر کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ تحقیق طرز زندگی کے عام انتخاب سے ہٹ کر 'کاگنیٹو ریزرو' (cognitive reserve) کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ غیر ملکی زبان سیکھنے کی کوشش دماغی ساخت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

باسکی سینٹر آن کاگنیشن، برین اینڈ لینگویج (Basque Center on Cognition, Brain and Language) کے محققین کا دعویٰ ہے کہ زبان میں مہارت اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ زبانوں کی تعداد۔ اگرچہ برطانوی اخبار دی گارڈین (The Guardian) نے سماجی و اقتصادی عوامل کے اثرات کا ذکر کیا ہے، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ تعلیم اور جنس کے فرق کو نکالنے کے بعد بھی یہ تعلق برقرار رہتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ لسانی مہارت دماغی صحت کے لیے ایک الگ اور اہم قوت ہے۔

پس منظر اور تاریخ

بیسویں صدی کے اوائل میں دو زبانیں بولنے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ماہرینِ تعلیم کا خیال تھا کہ اس سے بچوں میں ذہنی تھکن یا ترقی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ نظریہ 1960 کی دہائی کے آخر میں مکمل طور پر بدل گیا جب نیورو سائنسدانوں نے ایک سے زیادہ زبانیں جاننے والوں میں مسائل حل کرنے اور کام بدلنے کی بہتر صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا، جس سے جدید 'نیورو پلاسٹی سٹی' (neuro-plasticity) کے مطالعے کی بنیاد پڑی۔

باسکی خطے کی لسانی تحفظ کی منفرد سماجی و سیاسی تاریخ نے اسے اس طرح کی تحقیق کے لیے ایک بہترین مقام بنا دیا ہے۔ ایک ایسی آبادی کا مشاہدہ کر کے جہاں 'یوسکارا' (Euskara)—ایک ایسی الگ تھلگ زبان جس کا کسی دوسری زبان سے تعلق نہیں—ہسپانوی اور فرانسیسی جیسی زبانوں کے ساتھ بولی جاتی ہے، سائنسدان بالکل مختلف لسانی خاندانوں کے درمیان تبدیلی کے ذہنی بوجھ کو الگ سے پرکھ سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سائنسی حلقوں اور عوام میں دماغ کی اس فطری صلاحیت پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ ثقافتی مصروفیات کے ذریعے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ادویات کے بغیر بڑھتی عمر کے ساتھ دماغی کمزوری کو روکنے کے امکانات پر ایک جوش و خروش پایا جاتا ہے، جس سے زبان سیکھنا محض ایک بوجھ نہیں بلکہ زندگی کو طول دینے والا ایک اہم تجربہ بن کر سامنے آیا ہے۔

اہم حقائق

  • فیڈریشن آف یورپین نیورو سائنس سوسائٹیز (Federation of European Neuroscience Societies) کی کانفرنس میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، دو زبانیں بولنا دماغ کو ایک زبان بولنے والے شخص کے مقابلے میں چھ سال تک زیادہ جوان بنا سکتا ہے۔
  • باسکی (Basque) خطے میں کی گئی تحقیق میں میگنیٹو اینسفیلوگرافی (magnetoencephalography) اور AI کا استعمال کرتے ہوئے مختلف لسانی مہارت رکھنے والے 728 افراد کی دماغی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔
  • اس تحقیق سے ایک 'گریڈینٹ ایفیکٹ' سامنے آیا ہے، جس کے مطابق چار یا اس سے زیادہ زبانیں جاننے والے افراد کے دماغی رابطے ان افراد جیسے تھے جو ان سے 13 سال تک چھوٹے ہوں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Barcelona📍 San Sebastian

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Multilingual Minds: How Learning New Languages Reshapes the Clock of Human Aging - Haroof News | حروف