دورانِ حمل ماؤں میں خون کی کمی سے بچوں کا دماغی سائز چھوٹا ہونے کا انکشاف
جنوبی ایشیائی ماؤں میں خون کی کمی بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو مستقل طور پر متاثر کر سکتی ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق ماں کی صحت بچے کے دماغ کی ساخت طے کرتی ہے، جس سے خون کی معمولی کمی بچے کے لیے عمر بھر کی معذوری بن سکتی ہے۔
The brief accurately synthesizes data from a peer-reviewed study reported by The Guardian. The 'Single Source' tag is applied because the report relies on a single clinical study and a single media outlet, preventing independent triangulation of the specific 4% and 6% findings.

"یہ وہ بچے نہیں ہیں جن کی کمی وقت کے ساتھ پوری ہو جائے، بلکہ چھ سال کی عمر تک پہنچنے پر بھی ان کے دماغ میں یہ فرق برقرار رہتا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
جنوبی ایشیا جیسے خطوں کے لیے یہ نتائج تشویشناک ہیں جہاں خون کی کمی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بحران ہے؛ اگر بچے پیدائشی طور پر چھوٹے دماغ کے ساتھ پیدا ہوں گے تو غربت اور تعلیمی پسماندگی کا چکر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ تحقیق کے مطابق خون کی معمولی کمی بھی دماغی تبدیلیوں کے لیے کافی ہے، جو موجودہ طبی حفاظتی اقدامات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
اس تحقیق میں پورٹیبل MRI مشینوں کا استعمال یہ بتاتا ہے کہ غریب علاقوں میں بھی اب دماغی نشوونما پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ WHO کے مطابق پچھلے بیس سالوں میں اس مسئلے پر کوئی خاص بہتری نہیں آئی، لیکن اب دماغی نقصان کے ٹھوس ثبوتوں کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کی خوراک اور آئرن کے استعمال کو اولین ترجیح دی جائے۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے خون کی کمی ایک عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے جس کی بڑی وجہ خوراک کی کمی اور غربت ہے۔ ماضی میں ماؤں کی صحت کے حوالے سے زیادہ تر توجہ صرف زچگی کے دوران ان کی جان بچانے تک محدود تھی۔
پچھلے بیس سالوں میں ماہرین کی توجہ صرف جان بچانے کے بجائے بچے کی مستقبل کی صحت پر مرکوز ہوئی ہے۔ نئی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ زندگی کے پہلے 1000 دن دماغ کی نشوونما کے لیے سب سے اہم ہیں، جہاں ہونے والا نقصان بعد میں پورا نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی ردعمل
ماہرین نے اس تحقیق پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی ادارہ صحت کے لیے ایک فوری کال قرار دیا ہے۔ جہاں نئی ٹیکنالوجی سے امید پیدا ہوئی ہے وہیں لاکھوں بچوں کے پیدائشی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •خون کی کمی کا شکار ماؤں کے بچوں کے دماغ کا حجم صحت مند ماؤں کے بچوں کے مقابلے میں اوسطاً 4 فیصد کم پایا گیا۔
- •یہ کمی دماغ کے ان حصوں (putamen، caudate nucleus اور corpus callosum) کو متاثر کرتی ہے جو سیکھنے اور جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔
- •پیدائش کے ابتدائی دو سالوں میں یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے، جہاں ایک سال کی عمر میں یہ فرق 4 فیصد تھا وہ دو سال تک 6 فیصد ہو گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔