ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Technology & Science8 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

میٹا کا انسٹاگرام پروفائل ڈیٹا استعمال کرنے والا نیا اے آئی ٹول، پرائیویسی کے حوالے سے شدید ردِعمل کا سامنا

مارک زکربرگ کی اے آئی (AI) کی دوڑ میں یہ نئی چال عوامی انسٹاگرام پروفائلز کو ڈیٹا کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس سے کمپنی کی ترقی اور صارفین کی پرائیویسی کے درمیان ایک بڑا تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedCritical of Tech

The report is based on coverage from the BBC, which presents factual developments alongside criticisms from privacy advocates. The 'Critical of Tech' tag reflects the source's emphasis on the potential privacy risks and negative feedback from advocacy groups like Foxglove and Privacy International.

میٹا کا انسٹاگرام پروفائل ڈیٹا استعمال کرنے والا نیا اے آئی ٹول، پرائیویسی کے حوالے سے شدید ردِعمل کا سامنا
""یہ سمجھنا مشکل ہے کہ مارک زکربرگ کیوں سمجھتے ہیں کہ تصاویر میں اس طرح کی عجیب و غریب تبدیلیوں کو فروغ دینا ایک اچھا آئیڈیا ہے۔""
Donald Campbell (Donald Campbell, advocacy director at tech justice non-profit Foxglove, reacting to the launch of Muse Image.)

تفصیلی جائزہ

یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ میٹا اپنے اربوں صارفین کی تصاویر کا فائدہ اٹھا کر اے آئی (AI) کے میدان میں اپنے حریفوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اس فیچر کو واٹس ایپ جیسی ایپس میں شامل کر کے میٹا انسانی شناخت کے ڈیٹا کو مصنوعی مواد کے لیے استعمال کرنے کو معمول بنا رہا ہے۔ کمپنی نے اسے 'آپٹ آؤٹ' رکھ کر سارا بوجھ صارفین پر ڈال دیا ہے۔

ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ Foxglove جیسے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹول ایک بڑی مصیبت ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ میٹا کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹول صارفین کو بہتر تخلیقات میں مدد دے گا۔ تاہم، Privacy International کے مطابق یہ انسانوں کو صرف ایک 'خام مال' بنانے کی کوشش ہے۔

پس منظر اور تاریخ

اے آئی (AI) ٹریننگ کے لیے ڈیٹا کے استعمال پر تنازعہ 2022 سے شدت اختیار کر گیا ہے، جب DALL-E اور Midjourney جیسے ٹولز مشہور ہوئے۔ ماضی میں سوشل میڈیا صرف انسانی رابطے کے لیے تھا، مگر اب یہ ڈیٹا مشین لرننگ کے لیے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔ میٹا کا ڈیٹا کے غیر محتاط استعمال کا پرانا ریکارڈ ہے، جیسا کہ کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں انٹرنیٹ پر موجود ہر ڈیٹا کو اپنی ملکیت سمجھ رہی ہیں۔ جیسے جیسے یورپی یونین اور برطانیہ میں اے آئی ایکٹ (AI Act) جیسے قوانین سخت ہو رہے ہیں، میٹا کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی قوانین کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔

عوامی ردعمل

عوام اور ماہرین میں اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اسے ایک 'پرائیویسی بم' قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ میٹا اسے تخلیقی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ کہتا ہے، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ کمپنیاں اخلاقیات پر اپنی برتری کو ترجیح دے رہی ہیں۔

اہم حقائق

  • میٹا کا Muse Image ٹول صارفین کو واٹس ایپ، انسٹاگرام اسٹوریز اور ویب پر انسٹاگرام پروفائل پکچرز سے اے آئی (AI) تصاویر بنانے کی اجازت دیتا ہے۔
  • پبلک اکاؤنٹس کے لیے یہ فیچر خود بخود آن ہے، اور اسے بند کرنے کے لیے صارفین کو مینوئلی انسٹاگرام سیٹنگز میں 'Sharing and Reuse' آپشن پر جانا ہوگا۔
  • یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ کا ریگولیٹر Ofcom ایلون مسک کے X کے خلاف Grok AI ماڈل کے ذریعے بغیر اجازت تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Silicon Valley

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔