موغادیشو میں فائرنگ؛ صومالیہ کا آئینی بحران انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گیا
بدھ کے روز موغادیشو کا نازک استحکام اس وقت بکھر گیا جب راکٹوں اور چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ نے سیاسی تعطل کو باقاعدہ شہری جنگ میں بدلنے کا اشارہ دیا۔
This brief summarizes a high-stakes political conflict where the central facts of the violence are corroborated, though the legal legitimacy of the government and the specific origins of the skirmish are heavily disputed by local factions. The report maintains clinical distance by attributing specific accusations of aggression directly to the involved parties.

"ہم پر ان افواج کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے جن کی کمان وہ صدر کر رہے ہیں جن کی مدتِ ملازمت ختم ہو چکی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ کشیدگی صومالیہ کی مرکزی حکومت اور قبائلی بنیادوں پر قائم طاقتور اپوزیشن کے درمیان پاور شیئرنگ کے معاہدے کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں صدر Mohamud اس توسیع کو 'ون پرسن، ون ووٹ' کے جمہوری نظام کی طرف ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں ان کے حریف اسے طاقت پر قبضے کی کوشش سمجھ رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں RPG کا استعمال خطرناک ہے کیونکہ اس سے صومالی فوج کے قبائلی بنیادوں پر تقسیم ہونے کا خطرہ ہے، جو al-Shabab کے خلاف آپریشنز کو روک سکتا ہے۔
اس تمام تنازعے کی جڑ قانونی حیثیت ہے؛ Khaire کا دعویٰ ہے کہ صدر ان افواج کی کمان کر رہے ہیں جن کی آئینی مدت ختم ہو چکی ہے، جبکہ صدارتی دفتر کا موقف ہے کہ مارچ کا آئینی فریم ورک اس توسیع کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ US اور UK سمیت بین الاقوامی ثالث اب وقت کے خلاف دوڑ رہے ہیں تاکہ جمعرات کے مجوزہ احتجاج کو خانہ جنگی میں بدلنے سے روکا جا سکے، کیونکہ اپوزیشن 15 مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد کسی بھی اتھارٹی کو ماننے سے انکار کر رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
صومالیہ کا سیاسی ڈھانچہ طویل عرصے سے 4.5 سسٹم کے نازک توازن پر قائم ہے، جو ملک کے چار بڑے قبائل اور اقلیتی گروپوں کی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے۔ 1991 میں مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک ایک مستحکم انتخابی عمل کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جس میں اکثر بالواسطہ انتخابات پر انحصار کیا جاتا ہے۔ صدر Hassan Sheikh Mohamud کے پہلے دور (2012-2017) اور اب دوبارہ اقتدار میں آنے کے دوران عوامی حقِ رائے دہی کے وعدے کیے گئے، لیکن بدامنی اور سیاسی چپقلش کی وجہ سے یہ اہداف پورے نہ ہو سکے۔
موجودہ بحران 2021 کے اس تعطل کی یاد دلاتا ہے جو سابق صدر Farmaajo کے دور میں ہوا تھا، جہاں اسی طرح کی توسیع کے نتیجے میں دارالحکومت میں مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔ بار بار کا یہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ موغادیشو کی وفاقی حکومت اور علاقائی ریاستوں کے درمیان بے اعتمادی کتنی گہری ہے، جنہیں ڈر ہے کہ آئینی اصلاحات کو وفاقی نظام ختم کر کے آمریت قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
موغادیشو میں اس وقت شدید خوف اور بے چینی کی فضا ہے، جہاں شہریوں کو خدشہ ہے کہ وہ دوبارہ اسی دہائیوں پرانی خانہ جنگی میں نہ دھکیل دیے جائیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر نے حد سے زیادہ بڑا قدم اٹھایا ہے، جس سے ملک کی مشکل سے حاصل کی گئی سکیورٹی داؤ پر لگ گئی ہے۔ عوام میں تھکن کا احساس ہے کیونکہ سیاسی اشرافیہ al-Shabab اور بحری قزاقی جیسے حقیقی خطرات کے بجائے آئینی جوڑ توڑ کو ترجیح دے رہی ہے۔
اہم حقائق
- •3 جون 2026 کو موغادیشو کے Howl Wadaag ضلع میں شدید فائرنگ اور RPG دھماکے ہوئے۔
- •سابق وزیراعظم Hassan Ali Khaire نے بتایا کہ حکومت مخالف احتجاج کی منصوبہ بندی کے لیے ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سرکاری افواج نے ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔
- •صدر Hassan Sheikh Mohamud کی اصل مدت 15 مئی کو ختم ہو گئی تھی، لیکن مارچ میں نئے آئین پر پارلیمانی ووٹنگ کے ذریعے اس میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔