سابق سینیٹر کا دعویٰ: امریکی پالیسیوں نے اسرائیل کو فائدہ اور خود امریکہ کو نقصان پہنچایا
پاکستانیوں کے لیے یہ خبر اہم ہے کیونکہ نائن الیون کے بعد امریکی پالیسیوں سے خطے میں بدامنی پھیلی اور ٹی ٹی پی کا خطرہ پیدا ہوا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے امریکی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 سالہ جنگوں نے امریکی عالمی برتری کو ختم کر دیا ہے اور غیر ارادی طور پر چین کے ابھرنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔
This brief relies entirely on a single regional news outlet reporting on a public seminar. The core arguments reflect the specific geopolitical opinions and unverified historical claims of an individual ex-politician rather than an internationally corroborated consensus.

"اگر وائٹ ہاؤس کے اہم معاملات چلانے والے ان 25 افراد کو کسی جزیرے پر بھیج دیا جاتا، تو عراق کی جنگ کبھی نہ ہوتی۔"
تفصیلی جائزہ
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد دنیا یک قطبی سے نکل کر کثیر قطبی نظام میں داخل ہو گئی ہے جہاں 'مسلم مڈل پاورز' اور SCO اور BRICS جیسی تنظیمیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں مداخلت نے چین کو ایک بڑے حریف کے طور پر ابھرنے کا موقع دیا جو اب ناقابل واپسی ہے۔ واضح رہے کہ 'گریٹر اسرائیل' ایجنڈے اور بش بلیئر ملاقات کی تفصیلات کے ان دعوؤں کی سینیٹر کے حوالوں کے علاوہ آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اس کے منفرد داخلی نتائج بھگتنا پڑے، خاص طور پر افغان پالیسی کی ناکامی اور 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا قیام اسی علاقائی عدم استحکام کا نتیجہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق مشاہد حسین کا ماننا ہے کہ امریکہ نے 2001 میں طالبان کو بون معاہدے سے باہر رکھ کر اور افغان بادشاہت کو بحال نہ کر کے افغانستان کو مستحکم کرنے کا ایک بڑا موقع ضائع کیا۔
پس منظر اور تاریخ
ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے 'دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ' کا آغاز کیا جس کا پہلا قدم افغانستان پر حملہ کر کے طالبان اور القاعدہ کو نکالنا تھا۔ اس کے بعد 2003 میں عراق پر متنازعہ حملہ کیا گیا جو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ان دعوؤں پر مبنی تھا جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ ان جنگوں نے مسلم دنیا کی جغرافیائی سیاست کو بدل دیا اور پاکستان کو مغرب کے ساتھ ایک مشکل فرنٹ لائن اتحاد میں دھکیل دیا۔
پاکستان کے اندر اس دور میں پرویز مشرف کی صدارت تھی جنہوں نے بش انتظامیہ کے شدید دباؤ کا سامنا کیا۔ بعد میں قبائلی علاقوں میں تشدد پھیلنے سے ایک دہائی طویل اندرونی شورش پیدا ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان مداخلتوں کی ناکامی نے علاقائی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اس سے مغربی وسائل اور وقار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عوامی ردعمل
رپورٹ کا لہجہ مغربی مداخلت پسندی پر کڑی تنقید اور علاقائی طاقتوں کے ابھرنے کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں امریکہ کے زوال اور مشرقی طاقتوں کے عروج پر زور دیا گیا ہے، اور گزشتہ دو دہائیوں کو مغربی اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا گیا ہے جس نے مسلم ممالک کو نقصان پہنچایا۔
اہم حقائق
- •سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) میں 'نائن الیون کے 25 سال: وہ تاریخ جس نے دنیا بدل دی' کے عنوان سے فیکٹ شیٹ پیش کی۔
- •پریذنٹیشن میں براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق امریکہ نے جنگوں پر 8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جس سے 3 کروڑ 80 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے اور تقریباً 50 لاکھ اموات ہوئیں۔
- •سینیٹر نے فلپ سینڈز کی کتاب 'لا لیس ورلڈ' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلیئر کے درمیان ایٹمی خدشات پر پاکستان اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے بارے میں مبینہ بات چیت ہوئی تھی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔