ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
World8 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

NATO کے اتحادیوں کا 37 ارب پاؤنڈز کے 'Deep-Strike' میزائل پروجیکٹ کا آغاز، امریکہ کا دباؤ اور روس کی جارحیت بڑی وجہ

امریکی علیحدگی پسندی کے بڑھتے خطرات اور روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے درمیان، یورپی طاقتیں اپنے براعظم کے دفاع کو محفوظ بنانے کے لیے اربوں پاؤنڈز کا بڑا جوا کھیلنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedWestern-LeaningAnalytical

This brief is based on official defense announcements and reputable reporting from the BBC, reflecting a Western strategic viewpoint regarding Russian military posture and NATO's internal spending debates.

NATO کے اتحادیوں کا 37 ارب پاؤنڈز کے 'Deep-Strike' میزائل پروجیکٹ کا آغاز، امریکہ کا دباؤ اور روس کی جارحیت بڑی وجہ
""یہ سب اس بارے میں ہے کہ ہم ایک مضبوط NATO کے اندر ایک مضبوط یورپ کی موجودگی کو کیسے یقینی بناتے ہیں۔""
Yvette Cooper (Discussing the strategic necessity of the new missile project at the NATO summit in Ankara.)

تفصیلی جائزہ

یہ اقدام NATO کے فریم ورک کے اندر یورپی خود انحصاری کی جانب ایک اسٹریٹجک تبدیلی ہے، جس کی وجہ امریکہ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی ترجیحات ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یورپ میں امریکی افواج کی ممکنہ کمی کے اشاروں اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے مطالبے کے بعد، یہ 'Deep Precision Strike' پروجیکٹ جتنا ماسکو کے لیے ایک فوجی دھمکی ہے، اتنا ہی واشنگٹن کے لیے ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔

تاہم، اس پروجیکٹ کی مدت ایک بڑی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے: یہ ٹیکنالوجی 2030 کی دہائی تک تیار نہیں ہوگی، جس کی وجہ سے روسی توسیع پسندی کے اس دور میں دفاعی صلاحیتوں کا ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ دفاعی بجٹ کے اہداف پر اندرونی اختلافات بھی نمایاں ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ شاید 37 ارب پاؤنڈ کا عہد بھی اس امریکی انتظامیہ کو مطمئن نہ کر سکے جو یورپ کے دفاعی انتظامات پر شکوک و شبہات رکھتی ہے۔

پس منظر اور تاریخ

یورپ کی اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں کی تیاری 2019 میں 'Intermediate-Range Nuclear Forces' (INF) معاہدے کے خاتمے کا نتیجہ ہے، جس نے پہلے زمین سے فائر کیے جانے والے مخصوص میزائلوں پر پابندی لگا رکھی تھی۔ معاہدے کے خاتمے کے بعد، روس کی جانب سے SSC-8 میزائل سسٹم کی تنصیب نے یورپی دارالحکومتوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔

تاریخی طور پر یورپ نے ہمیشہ امریکی 'نیوکلیئر امبریلا' پر بھروسہ کیا ہے۔ اب ایک آزاد یورپی سسٹم کی جانب پیش رفت سرد جنگ کے دور کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے، لیکن یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اب اسے بہت بڑے کثیر القومی پیمانے پر ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

عوامی ردعمل

خبر کا لہجہ اسٹریٹجک عجلت اور سیاسی پریشانی کا عکاس ہے۔ اس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں بڑی فوجی سرمایہ کاری ناگزیر ہے، لیکن اس پر یورپی رہنماؤں اور امریکی انتظامیہ کے درمیان ممکنہ تناؤ کا سایہ برقرار ہے۔

اہم حقائق

  • برطانیہ کی قیادت میں 12 ممالک نے ایک دہائی کے دوران 'Deep Precision Strike' نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کی تیاری کے لیے 37 ارب پاؤنڈز (50 ارب ڈالرز) سے زائد کی رقم مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
  • یہ نیا میزائل سسٹم 200 سے 1,250 میل کے فاصلے تک اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاہم 2030 کی دہائی تک اس کے مکمل طور پر فعال ہونے کی امید نہیں ہے۔
  • برطانیہ کی سمندری حدود کے گرد روسی فوجی سرگرمیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ NATO کے طیارے اتحادی فضائی حدود کے قریب آنے والے روسی طیاروں کو روکنے کے لیے 700 سے زائد بار پرواز کر چکے ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Ankara📍 London

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔